نوری المالکی نے 'العربیہ نیوز' بند کرنے کی دھمکی دیدی

عراقی وزیر اعظم چینل کو سزا دینا چاہتے ہیں: جنرل مینیجر'العربیہ'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عراقی حکومت نے ہفتے کے روز العربیہ نیوز چینل کا بغداد دفتر بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ العربیہ اور اس کے برادر چینل 'الحدث' کے نامہ نگاروں کی رپورٹنگ پر پابندی عاید کر سکتے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے یہ دھمکی متعدد سیاستدانوں کی طرف سے استعفی دینے کا مطالبہ زور پکڑنے کے بعد دی ہے۔ سیاستدان المالکی سے عہدہ چھوڑ کر عبوری حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ادھر 'العربیہ' نیوز چینل کے جنرل مینیجر عبدالرحمان الراشد نے ایک بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ 'العربیہ' اور اس کا برادر چینل 'الحدث' عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی دھمکی کے باوجود عراق سے متعلق خبروں کو دنیا تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔ 'داعش' اور اس جیسی دیگر تنظیموں کی دھمکیاں بھی ہمیں عراق میں اپنے کام سے نہیں روک سکتیں۔

عبدالرحمان الراشد نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ گذشتہ دنوں موصل اور تکریت میں عراقی فوج کے انخلا اور شہر پر داعش کے کنڑول کے بعد ہمارے نیوز چینلوں 'العربیہ' اور 'الحدث' پر متعدد عینی شاہدوں کے بے لاگ تبصروں پر نوری المالکی کی حکومت بوکھلا گئی تھی کیونکہ عوام نے عراقی حکومت کی کارکردگی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

"نوری المالکی ماضی میں اپنی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنے والے متعدد اخبارات اور ٹی وی چینلز کو بند کر چکی ہے اور اب وہ 'العربیہ' کو اسی انجام دے دوچار کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' بھی ہمارے نمائندوں کو قتل کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ ان میں تازہ ترین دھمکی الانبار میں 'العربیہ' کے نامہ نگار کو دی گئی۔ داعش نے اپنے ٹویٹر اکاٶنٹ کے ذریعے 'العربیہ' کے الانبار میں نامہ نگار کو قتل کرنے کی دھمکی دی کیونکہ ان کی ارسال کردہ چند خبروں میں تنظیم کی چند قابل اعتراض سرگرمیوں کا پردہ چاک کیا گیا تھا۔"

بیان کے اختتام پر عبدالرحمان الراشد نے یاد دلایا کہ گذشتہ دس برسوں کے دوران 'العربیہ' کے 13 نمائندے جان بوجھ کر قتل کئے جا چکے ہیں، ہم نے اس سب کے باوجود اپنا کام نہیں چھوڑا اور اب نوری المالکی کے ہاتھوں ہمارے بغداد دفتر کی بندش بھی ہمیں اپنے فرائض ادا کرنے نہیں روک سکتی۔

یہ بھی پڑھئے:

مالکی کے فرزند حمودی عراق کے نئے عُدی ہو گئے؟

عراق کے ادالیم قبیلے کے رہنما شیخ علی حاتم نے پارلیمنٹ میں مختلف سیاسی بلاکس پر زور دیا ہے کہ وہ نوری المالکی کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرتے ہوئے ایک ایسی عبوری حکومت کی تشکیل کو یقینی بنائیں کہ جو 'کچھے ملک کا تحفظ کر سکے۔'

انٹرنیٹ پر مشتہر کی گئی اپنی تقریر میں شیخ حاتم کا کہنا تھا کہ ہمارا سیاستدانوں سے مطالبہ ہے کہ وہ انقلاب کو نقصان پہنچانے والے ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ کریں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ نوری المالکی اور ان کے حواری اس انقلاب کو دہشت گردی کا لباس پہنانا چاہتے ہیں۔

عراقی نیشنل الائنس کے ترجمان اور معروف سیاسی تجزیہ کار احمد العباعد نے کہا کہ امریکا اور مالکی حکومت عراق کی حالیہ افراتفری کے ذمہ داری ہیں۔

سابق نائب صدر طارق الھاشمی نے بھی نوری المالکی سے مستعفی ہونے پر زور دیتے ہوئے فوری طور پر عبوری حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ نیوز پر پابندی لگانے کی دھمکی حکومت کے ایک دن پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بندش کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس میں فیس بک، یو ٹیوب اور ٹویٹر سمیت دیگر پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں۔

عراقی حکومت کو ان دنوں دولت اسلامی عراق و شام کے جنگجووں کی شورش کا سامنا ہے۔ داعش نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل سمیت متعدد شہروں پر قبضہ کر لیا ہے اور اب دالحکومت کی جانب پیش قدمی کرنے کو تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں