عراق میں مالکی حکومت کا سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان
العربیہ نیوز کے نامہ نگار نے عراق سے اپنے مراسلے میں انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت نے عراق میں فیس بک، ٹوئٹر اور وٹس اپ جیسے سماجی رابطے کے معروف پلیٹ فارم پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی لگا دی ہے۔
سوشل میِڈیا پر پابندی ایک ایسے وقت لگائی گئی ہے کہ جب گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سیکیورٹی کی صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔
جمعہ کے روز اپنے ایک نشریئے میں ٹکنالوجی کے خبروں سے متعلق ایک مقبول عام پورٹل نے عراق میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے ٹوئٹر سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگا دی ہے۔ بعض صارفین کے مطابق حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی کا اقدام ملک میں پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال کے تناظر میں لگایا ہے۔
عراق میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی بعض کمپنیوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ حکومت نے فوری طور پر 'وائبر' اور 'وٹس اپ' پر پابندی لگا دی ہے۔ اس سے قبل حکومت نے دوسرے سماجی نیٹ ورکس کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کیا۔
ادھر سوشل میڈیا استعمال کرنے والے عرب صارفین نے عراقی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بھی نوری المالکی کی آمریت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
-
عراق: یرغمال ترک شہریوں کی رہائی کی کوششیں شروع
کردوں سمیت تمام عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطہ ہے: ترک حکام
مشرق وسطی -
عراق: داعش نے یونیورسٹی طلبہ اور اساتذہ کو یرغمال بنا لیا
تین پولیس گارڈ جاں بحق، سکیورٹی فورسز کا آپریشن
مشرق وسطی -
عراقی ہیلی کاپٹروں کا شام میں جہادی کانوائے پر حملہ
شامی علاقے میں عراق کی پہلی کارروائی میں سات افراد ہلاک
مشرق وسطی