امریکی حملے پر بشار کی فوج کا انتہائی انوکھا موقف !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حمص کے قریب بشار الاسد کی فوج کے فضائی اڈے پر امریکی میزائل حملے کے جواب میں شامی حکومت کی فوج کے موقف کو جدید تاریخ کا "انوکھا ترین" جواب کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

امریکی کارروائی کے چند ہی گھنٹوں بعد سامنے آنے والے "رد عمل" میں شامی مسلح افواج اور جنرل کمان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ " تمام تر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی یہ جارحیت انسداد دہشت گردی کے حوالے سے شامی فوج کی صلاحیتوں کو متاثر کرنے کی کوشش ہے"۔ شامی ترجمان یہ بھول گئے کہ شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے بم باری کرنا انسانیت کے خلاف ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ "(شامی حکومت کی فوج کا) جواب یہ ہے کہ ہم شامی عوام کے دفاع کے قومی فریضے کو جاری رکھنے کا مصمم ارادہ کریں ، دہشت گردی کو ہر جگہ کچل ڈالیں اور شام کی تمام اراضی پر امن و استحکام کی واپسی کو یقینی بنائیں"۔

وہ سرزمین جہاں (روس ، امریکا ، ایران ، اور ترکی) کم از کم 4 ملکوں کی افواج کے علاوہ وہ دہشت گرد ملیشیائیں بھی موجود ہیں جن کو بشار الاسد نے ملک میں داخل کیا۔

واضح رہے کہ شامی حکومت اپوزیشن گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتی ہے جب کہ عالمی برادری ان کے ساتھ شامیوں کے نمائندے کا معاملہ کرتی ہے۔

جہاں تک حقیقی دہشت گرد تنظیم داعش کا تعلق ہے تو ماضی میں بہت سی رپورٹوں میں انکشاف ہو چکا ہے کہ شامی حکومت اور اس کی اہم شخصیات تنظیم کے ساتھ رابطے میں ملوث رہی ہیں۔ اس دوران فریقین کے درمیان آثاریاتی نوادرات کی اسمگلنگ سے لے کر تیل کی فروخت تک کی ڈیلیں بھی ہوئیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں