شام میں امریکی کارروائی درست،مگر ناکافی ہے: ایردوآن

’بشار الاسد کو فوری طور پر اقتدار سے ہٹایا جائے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ت صدر رجب طیب ایردوآن نے شام کے فوجی اڈے پر امریکا کے مزائل حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسد رجیم کے ٹھکانوں پر بمباری درست اقدام ہے مگر ایک حملہ کافی نہیں۔ شامی عوام کو اسد رجیم کے مظالم سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنوبی ریاست ہاتائی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے کہا کہ شام کے وسطی شہر حمص میں الشعیرات کے فوجی اڈے پر امریکی میزائل حملہ درست اقدام ہے اور وہ اس کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ البتہ اس حملے کو شامی عوام کے تحفظ کے لیے کافی نہیں سمجھتے۔

انہوں نے کہا کہ شامی عوام کو اسد رجیم کے مظالم سے بچانے کے لیے مزید اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ شام میں محفوظ زون کے قیام سمیت کئی دوسرے اقدامات کی فوری ضرورت ہے تاکہ اسد رجیم سے شہریوں کو تحفظ دلایا جاسکے۔

اس موقع پر ترک صدر کا کہنا تھا کہ ان کے شام میں کوئی خطرناک ارادے نہیں مگر وہ محفوظ زون کے قیام کے مطالبے پر اس لیے زور دے رہے ہیں تاکہ ظلم کے ستائے شامی بھائیوں کو محفوظ جگہ فراہم کی جا سکے۔

طیب ایردوآن کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اسد رجیم اور دہشت گرد تنظیموں کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ توقع ہے کہ امریکا نے جس طرح ادلب میں اسدی فوج کے کیمیائی حملے کے بعد ٹھوس موقف اپنایا ہے وہ مزید اقدامات کا نقطہ آغاز ہوگا۔

ترکی کے وزیرخارجہ مولود شاوس اوغلو نے صدر بشار الاسد کو فوری طور پر اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں امریکا کے فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں عبوری حکومت کی تشکیل بھی ناگزیر ہے تاکہ قیام امن کے لیے سیاسی مساعی بھی جاری رکھی جاسکیں۔

آلانیا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ بشار الاسد کو جلد ازجلد اقتدار سے ہٹانے سے شامی عوام کو تحفظ دلایا جاسکتا ہے۔

جب تک بشار الاسد کی جگہ شام مین عبوری حکومت کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا اس وقت تک انسانیت کے خلاف جرائم کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اوگلو کا کہنا تھا کہ شام میں محفوظ زون کے قیام کی جتنی ضرروت اب ہے ماضی میں کبھی نہ تھی۔ اتحادی ممالک کی طرف سے شام میں امریکی فضائی حملے کی وارننگ دی تھی۔ شام میں الشعیرات فوجی اڈے پر امریکی کروز میزائلوں کے حملے کے بعد انہوں نے فرانسیسی اور جرمن وزرائے خارجہ سے بھی بات چیت کی ہے۔ اس کےعلاوہ انہوں نے روسی وزیرخارجہ سیرگی لافروف اور امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن سے بھی اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔

ادھر ترک ایوان صدر کے ترجمان نے جمعہ کی شام ایک بیان میں کہا کہ شام میں نو فلائی زون کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے۔ترک حکومت کے ترجمان ابراہیم کالین کا کہنا تھا کہ شام کے ایک فوجی اڈے پر امریکی میزائل حملہ اسد رجیم کے معصوم شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کا مثبت رد عمل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں