لیبیا

بنغازی حملوں کا جواب، 10 داعشی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے

ماورائے عدالت قیدیوں کے قتل پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے شہر بنغازی میں دو روز قبل دوہرے کار بم دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد حکام نے داعش سے تعلق رکھنے والے 9 دہشت گردوں کو جائے وقوعہ پر لا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے ماورائے عدالت قیدیوں کے قتل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مقدمہ چلائے بغیر قیدیوں کو قتل کرنے کا کوئی انسانی، اخلاقی اور قانونی جواز نہیں۔

خیال رہے کہ بدھ کے روز لیبیا کے شہر بنغازی میں مسجد بیعت رضوان کے سامنے نماز عشا کے وقت یکے بعد دیگرے دو کار بم دھماکے ہوئے جن میں چالیس کے قریب افراد ہلاک اور ستر زخمی ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد لیبی فوج کی اسپیشل فورس کے سربراہ اور عالمی فوج داری عدالت کومطلوب محمود الورفلی کی تصاویر سامنے آئیں جن میں اسے قیدیوں کو گولیاں مارتے دیکھا جاسکتا ہے۔

کیٹپن محمود الورفلی نے ہی نے بدھ کے روز دہشت گرد گروپ ‘داعش‘ کے پکرے گئے 10 جنگجوؤں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے احکامات دیے تھے۔ انہیں مسجد بیعت رضوان کے سامنے دھماکوں کی جگہ پر لا کر سروں میں گولیاں ماری گئیں۔

جنگجوؤں کو گولیاں مارنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی جاری کی گئی ہین جن میں مقتولین کو نیلے کپڑوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ کیپٹن ورفلی کو اس سے قبل بھی کئی ایسی ویڈیوز اور تصاویر میں قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارتے دیکھا گیا ہے۔ عالمی فوج داری عدالت نے جنگی جرائم کے الزامات کے تحت ورفلی کواشتہاری قرار دے رکھا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں