لیبیا نے قذافی دور کے بقیہ "کیمیائی" ہتھیار تلف کر دیے
امریکی وہائٹ ہاؤس نے لیبیا کو بقیہ ماندہ کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ تباہ کر دینے پر مبارک باد پیش کی ہے اور ساتھ ہی شام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام سے مکمل طور پر چھٹکارہ حاصل کرے۔
وہائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے جمعرات کے روز کہا کہ قذافی کے دور کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تلف کرنے پر امریکا لیبیا کو تہنیت پیش کرتا ہے۔ امریکی انتظامیہ شام سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنا کیمیائی ہتھیاروں کا پروگرام مکمل طور پر بند کر دے اور اس بات کی ضمانت دے کہ آج کے بعد یہ ہتھیار شامی عوام کے خلاف استعمال نہیں کیے جا سکیں گے۔
دوسری جانب کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم نے جمعرات کے روز لیبیا کی جانب سے اپنے پاس موجود اس نوعیت کے ہتھیاروں کی آخری کھیپ (500 میٹرک ٹن) تباہ کر دینے کے اقدام کو سراہا۔ تنظیم نے اس اقدام کو دنیا کو زیادہ پر امن بنانے کے واسطے ایک "تاریخی موقع" قرار دیا۔
کیمیائی مواد کے 23 ٹینکوں کو اقوام متحدہ کے زیرِ نگرانی 30 اگست 2016 کو ڈنمارک کے ایک بحری جہاز کے ذریعے لیبیا کی بندرگاہ مصراتہ سے منتقل کیا گیا تھا۔ یہ مواد ستمبر 2016 میں جرمنی میں ایک کمپنی کی خصوصی تنصیب تک پہنچایا گیا جہاں اسی نوعیت کے ہتھیاروں کو تباہ کیا جاتا ہے۔ تنظیم نے جمعرات کے روز اس امر کی تصدیق کر دی کہ لیبیا کے ذخیرے کی مکمل تباہی کی کارروائی 23 نومبر 2017 کو پوری ہو گئی۔
اس بقیہ ماندہ ہتھیاروں سے چھٹکارہ پانے کے بعد لیبیا میں داعش تنظیم کے عناصر کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں پر قبضے کے امکانات کا اندیشہ بھی ختم ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ لیبیا 2004 میں کیمیائی ہتھیاروں کو ممنوع قرار دینے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوا تھا۔
-
خلیفہ حفتر نے سیف الاسلام قذافی کو "بے چارہ" قرار دیا
لیبیا کی قومی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر نے سیف الاسلام قذافی کو بے چارہ قرار دے کر ...
مشرق وسطی -
دا ٹیلی گراف نے سیف الاسلام قذافی سے متعلق من گھڑت مضامین ہٹا دیے
برطانوی روزنامے دا ٹیلی گراف نے لیبیا کے مقتول صدر کرنل معمر قذافی کے بیٹے ...
بين الاقوامى -
معمر قذافی کے وفادارسیف الاسلام کو لیبیا کا صدر بنانے کے خواہاں
لیبیا میں سنہ 2018ء میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں جاری ...
بين الاقوامى