’G7 کی دو ریاستی حل کی حمایت، غزہ میں "انسانی بنیادوں پر جنگ بندی" پر زور
بدھ کے روز G7 ممالک کے وزرائے خارجہ نے جنگ بندی کا مطالبہ کیے بغیر اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں "انسانی بنیادوں پر جنگ بندی " کی حمایت کی ہے۔
وزراء خارجہ نے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ایک میٹنگ کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ "ہم غزہ میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ہم فوری طور پر درکار امداد، شہریوں کی نقل و حرکت اور سہولت فراہم کرنے کے لیے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور راہداریاں کھولنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے یرغمال بنائے گئے تمام افراد کو رہا کیا جائے‘‘۔
ٹوکیو میں جی 7 وزرائے خارجہ کے اجلاس کی صدارت کرنے والے جاپانی وزیر خارجہ یوکو کامیکاوا نے کہا کہ گروپ کے ممالک کا ماننا ہے کہ دو ریاستی حل کا اصول مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے حل کی واحد بنیاد ہے۔
کامیکاوا نے آج بدھ کو پریس کانفرنس میں کہا کہ "ہم دیکھتے ہیں کہ "دو ریاستوں کے لیے دو ریاستیں" کے اصول سے وابستگی ہی تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ’G7‘ ممالک پہلی بار ٹوکیو اجلاس میں غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی حمایت اور حماس کے اسرائیل پر حملوں میں شہریوں کویرغمال بنائے جانے کی مذمت کرتے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
G7 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ "جی 7 کے اراکین علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر (مشرق وسطیٰ میں) تنازع کوپھیلنے سے روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہم حماس کو فنڈز کی فراہمی روکنے سمیت دیگر اقدامات پربھی کام کر رہے ہیں‘‘۔
G7 ممالک نے ایرانی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی تحریک حماس اور لبنانی حزب اللہ کی حمایت ترک کرے۔
اس سے قبل آج بدھ کو جاپانی اخبار "اساہی" نے اطلاع دی ہے کہ توقع ہے کہ G7 وزرائے خارجہ اپنے حتمی بیان میں غزہ کی پٹی میں لڑائی روکنے کی ضرورت پر زور دیں گے۔ 7 اکتوبر کو غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے گروپ کی جانب سے جاری کردہ یہ اپنی نوعیت کا دوسرا بیان ہوگا۔