اسرائیل نے جوہری ہتھیار رکھنے کی تصدیق کر دی: ایران کے جوہری سربراہ
ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے بدھ کے روز کہا کہ غزہ کی پٹی پر جوہری حملہ کرنے کے آپشن کے بارے میں اسرائیلی وزیر برائے ثقافتی ورثہ امیہائی الیاہو کا تبصرہ درحقیقت یہ تسلیم کرنے کے مترادف ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے کے حوالے سے اسلامی نے کہا، "ایک بار پھر صیہونی حکومت کے ایک اہلکار نے جوہری ہتھیار رکھنے کا اعتراف کیا ہے اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ غزہ کے مظلوم اور بے گناہ لوگوں کو دھمکیاں دے کر اس نے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کچھ ممالک نے اسرائیلی وزیر کے تبصروں کی مذمت کی ہے "لیکن اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی تنظیمیں بالخصوص اقوامِ متحدہ اپنی خاموشی توڑیں اور ایسی بے باکی کے خلاف سخت کارروائی کریں۔" اسلامی نے اسرائیلی تبصروں کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے "سنگین خطرہ" قرار دیا۔
اسلامی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور اس کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے مطالبہ کیا کہ "اس جعلی حکومت کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خطرے کے نتائج کا اعلان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کرنے کے علاوہ ان تباہ کن خطرات کی مذمت کریں جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اہداف اور اصولوں کے منافی ہیں۔"
اسرائیلی وزیر نے ایک انٹرویو میں غزہ کی پٹی پر جوہری بم گرانے کے فرضی آپشن کے بارے میں سوال پر کہا: "یہ ایک طریقہ ہے۔"
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے الیاہو کو کابینہ کے اجلاسوں سے "تا حکمِ ثانی" معطل کر دیا۔ نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا: "وزیر امیہائی الیاہو کے بیانات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ اسرائیل اور اسرائیلی دفاعی افواج بے گناہوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے بین الاقوامی قانون کے اعلیٰ ترین معیارات کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ ہم اپنی فتح تک ایسا کرتے رہیں گے۔"
ایران اور اسرائیل اپنے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے طویل عرصے سے اور متنازع الزامات کے تبادلے میں مصروف ہیں۔ ایران کے جوہری عزائم بین الاقوامی تشویش کا موضوع رہے ہیں اور پرامن ارادوں کے دعووں کے باوجود اس پر یہ الزامات ہیں کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کا تعاقب کر رہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کے بارے میں بڑے پیمانے پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں لیکن وہ جوہری ابہام کی پالیسی کو برقرار رکھتا ہے۔ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کی نہ تو تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تردید۔
اسرائیل نے اکثر ایران کی جوہری سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ تہران علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے تل ابیب پر منافقت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی اپنی جوہری صلاحیتیں عدم استحکام کا باعث ہیں۔