24 جون 2024 کو تل ابیب، اسرائیل میں سات اکتوبر کے یرغمالیوں کی حمایت میں بنائے گئے آرٹ ورک کے پاس سے ایک عورت اور ایک بچی گذر رہی ہیں۔ (رائٹرز)

اسرائیلی یرغمالی کو ہلاک کرنے والے گارڈ نے ہدایات کے خلاف ’انتقامی‘ عمل کیا: حماس

مقتول یرغمالی کی لاش کئی ماہ قبل نومبر میں برآمد کی گئی تھی: اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اسرائیلی یرغمالی کو ہلاک کر دینے والے حماس کے ایک گارڈ نے "انتقاماً" اور ہدایات کے خلاف عمل کیا جب اس نے خبر سنی کہ اس کے دو بچے اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان نے یہ بات جمعرات کو کہی۔

ابو عبیدہ نے ٹیلی گرام پر کہا، "محافظ کے فرائض انجام دینے والے (حماس کے) ایک سپاہی نے ہدایات کے خلاف انتقامی کارروائی کی جب اسے اطلاع ملی کہ اس کے دو بچے دشمن کے ایک قتلِ عام میں جاں بحق ہو گئے تھے۔"

انہوں نے مزید کہا، "یہ واقعہ ہماری اخلاقیات اور قیدیوں کے ساتھ سلوک کے سلسلے میں ہمارے دین کی ہدایات کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ہم ہدایات کو مزید تقویت دیں گے۔"

بعد ازاں اپنے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر ایک پیغام میں حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز نے پوسٹ کیا: "آپ کی بربریت آپ کے قیدیوں کے لیے خطرہ ہے۔"

پیر کو جب حماس نے پہلی بار اس واقعے کے بارے میں معلومات جاری کیں تو اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ حماس کے واقعے کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتی۔

لیکن جمعرات کو فوج نے کہا کہ حماس کی جاری کردہ تصویر میں جس شخص کی لاش نظر آ رہی ہے، وہ ایک یرغمالی تھا جسے قتل کر دیا گیا تھا اور جس کی لاش نومبر میں اسرائیلی فوج نے برآمد کر لی تھی۔

ابو عبیدہ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ واقعہ کب پیش آیا۔ حماس کے انکشاف کا مخصوص وقت دوحہ میں جنگ بندی مذاکرات سے قبل اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہو سکتا ہے۔

امریکہ، اسرائیل، قطر اور مصر کے ایلچی جمعرات کو دوحہ میں جنگ بندی معاہدہ طے کرنے کی کوشش میں ملاقات کر رہے تھے جس کے تحت غزہ میں قید اسرائیلی اور غیر ملکی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیل کی جیلوں میں بند کئی فلسطینیوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں