حما س کے اہم ذمہ دار نے ہمارا امریکہ کے بطور ثالث کردار پر اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔ ہمیں یقین نہیں کہ امریکہ اس ہفتے شروع ہونے والے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ اسرائیل پر دباؤ ڈال کر اسے جنگ بندی کے لیے آمادہ کر سکے۔ تاکہ دس ماہ سے زیادہ عرصے پر پھیلی جنگ رک سکے۔
یہ بات حماس کے رہنما اسامہ حمدان نےامریکی خبر رساں ادارے ' اے پی ' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا حماس کی ان مذاکرات میں شرکت صرف اسی صورت ممکن ہو گی کہ مذاکرات امریکی صدر جوبائیڈن کے مئی 2024 میں پیش کیے گئے جنگ بندی فارمولے کی تفصیلات کے عملدرآمد کے لیے ہوں۔ کہ اس جوبائیڈن فارمولے کو بین الاقوامی تائید بھی حاصل ہے۔
امریکہ نے اس جوبائیڈن فارمولے کو اسرائیلی تجویز کے طور پر پیش کیا تھا اور حماس نے اس میں پیش کردہ اصولوں کو قبول کر لیا تھا۔ جبکہ اسرائیل کا اب کہنا یہ سامنے آنے لگا ہے کہ یہ مکمل طور پر اسرائیلی تجاویز پر مشتمل نہیں ہے۔
بعد ازاں اس میں دونوں طرف سے تبدیلیاں بھی کی گئی تھیں۔ جس کے نتیجے میں دونوں طرف سے ایک دوسرے کو الزام دییا جانے لگا کہ وہ معاہدے میں رکاوٹیں ڈآل رہا ہے۔
حماس اسرائیل کے اس مطالبے میں بطور خاص مزاحم ہے کہ اسرائیل فوج کسی بھی جنگ بندی غزہ کے دو سٹریٹجک حصوں میں موجود رہے گی۔ یہ بات حالیہ ہفتوں کے دوران ہی سامنے لائی گئی ہے۔
حماس رہنما اور سیاسی بیورو کے رکن اسامہ حمدان نے کہا ' ہم نے ثالثوں کو بتا دیا ہے کہ اب کا ثالثی اجلاس صرف عملدر آمدی میکانزم بنانے کے لیے ہونے چاہیں اور ڈیڈ لائنز طے کرنے کے لیے ، بجائے اس کے ایک بار پھر نئی تجاویز پر غور شروع کر دیا جائے۔'
انہوں نے واضح طور کہا 'یہ بات ثالث ملکوں کو بھی بتا دی گئی ہے کہ اگر مذاکرات کو پہلے سے طے شدہ چیزوں کی بنیاد پر اور جوبائیڈن فارمولے کے مطابق آگے نہیں بڑھایا جاتا ہے تو حماس کے پاس ان مذاکرات کا حصہ بننے کی کوئی وجہ نہیں ہو گی۔'
اہم بات ہے کہ بدھ کی رات تک یہ بات ابھی واضح نہیں ہوئی تھی کہ حماس کا یہ اصولی مطالبہ تسلیم کیا گیا ہے یا نہیں۔ کیا امریکہ جوبائیڈن فارمولے کے تحت ہی مذاکرات کو آگے کسی نتیجے پر پہنچانے کو تیار ہے یا ہر بار نئی نئی تجاویز ہی زیر بحث لانے کا اہتمام ہو گا۔
حماس رہنما نے انٹرویو کے دوران اسرائیل کے حوالے سے کہا 'ہمیں نہیں لگتا کہ اسرائیل اچھی نیت کی بنیاد پر کچھ کر رہا ہے، نہ ہی ہمیں یہ یقین ہے کہ امریکہ اسرائیل پر کوئی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ کہ وہ اب معاہدے کی طرف آئے عملدرآمد کرنے طرف آئے اور نئی نئی تجویزیں نہ پیش کرے۔'
حمدان نے یہ بھی کہا ' اسرائیل نے ماضی میں جو کچھ کیا ہے وہ اس کے گرد گھومتا ہے کہ اس نے مذاکرات میں کبھی کسی نمائندے کو بااختیار بنا کر نہیں بھیجا ہے۔ مزید یہ جس وفد کو ایک بار مذاکرات میں اسرائیلی نمائندگی کے لیے بھیجا اگلی بار اس کی جگہ کسی نئے بندے کو بھیج دیتا رہا، ہربار نئی تجاویز اور نئی شرائط پیش کرتا رہا ہے، تاکہ کسی معاملے میں تسلسل نہ رہے اور کوئی چیز طے ہونے کی طرف نہ پہنچ سکے۔'
اسرائیل حماس کے اس موقف پر ابھی کسی تبصرے سے قاصر ہے، تاہم وہ مذاکراتی عمل کے دوران اپنی جنگی کارروائیوں، بمباری اور حملوں کو بھی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے حوالے سے دیکھتا ہے۔ اس کے الزام حماس پر ہیں کہ حماس مذاکرات کو آگے نہیں چلنے دیتا۔ یاد رہے اسماعیل ھنیہ کے تہران میں قتل کے بعد قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے واقعے پر انتہائی افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا مذاکرات کرنے والے فریق کے سربراہ کو ہی قتل کر کے مذاکرات کیونکر جاری رکھ سکتے ہیں۔
اس انٹرویو کے دوران حماس رہنما نے اپنے موقف کے حق میں کئی ایسی دستاویزات بھی دکھائیں جو مذاکرات کے حوالے سے تھیں۔ یہ تحریریں دستخطوں کے ساتھ تھیِ مذاکراتی عمل سے متعلق ذرائع نے بھی ان دستاویزات کی حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ درست اور حقیقت ہیں۔
منگل کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے ' ہاں کچھ معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں ، نیز کچھ مجوزہ دفعات کی تفصیلات یا وضاحتیں شامل کی گئی ہیں۔ یہ وضاحتیں فلسطینیوں کے شمالی غزہ میں اپنے گھروں میں واپس آنے سے متعلق ہیں۔ اسی طرح یرغمالیوں کی رہائی کے طریق کار سے متعلق ہیں۔ اسرائیل کے مطابق حماس 29 تبدیلیاں کرنا چاہتی ہے۔
اسامہ حمدان نے کہا ' ایک سے زائد بار حماس نے جنگ بندی فارمولہ تسلیم کر لیا' یا ایسا ہوا کہ ثالثوں کی طرف سے جو تجاویز پیش کی گئیں اسرائیل نے انہیں مسترد کر دیئا، نظر انداز کیا اور بڑے فوجی آپریشن کی شروعات کر دیں۔ ان کے مطابق رفح پر حملے کے حوالے سے بھی یہی ہوا ۔
ادھر حماس نے جنگ بندی قبول کی تھی اور دوسری جانب اسرائیل نے رفح پر سات مئی کو زمینی حملہ کر دیا۔' انہوں نے کہا ایک بار ''سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز نے ثالثوں کے توسط سے بتایا کہ اسرائیل جنگ بندی قبول کرنے والا ہے۔ یا اسے قبول کرنا چاہیے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ امریکی اسرائیلیوں کو قائل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں نہ اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔'
اسامہ حمدان نے انٹرویو کے دوران القاسم ونگ کے کمانڈر محمد الضیف کے زندہ ہونے پر اصرار کیا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ محمد الضیف کو 13 جولائی کو ایک بڑے میں حملے میں ہلاک کر دیا تھا، انہوں نے اس امر کے بارے میں تسلیم کیا کہ نئے حماس چیف یحییٰ السنوار کے ساتھ رابطوں میں کچھ مشکلات ہوتی ہیں۔ لیکن مذاکراتی عمل میں اس سے کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے۔