غزہ جنگ بندی مذاکرات میں حماس کی بالواسطہ شرکت، مصر کی کوشش جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق اسرائیل اور حماس کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے ثالثوں کی کوششں جاری ہیں۔ مصر کے ایک سینئر ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی تک پہنچنے کے مقصد کے ساتھ نقطہ نظر کو قریب لانے کے لیے ثالثوں مصر ، قطر اور امریکہ کے درمیان تعاون موجود ہے۔

قاہرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے وضاحت کی کہ آج جمعرات کو تمام فریقوں کو کہا ہے کہ فوری اور بتدریج جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے ایک متفقہ فارمولا تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

حماس نمائندے کی شرکت

قبل ازیں ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ دوحہ نے واشنگٹن کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حماس کے نمائندے غزہ مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شرکت کریں گے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ قطر نے امریکہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملاقاتوں میں حماس کی نمائندگی بھی ہوگی۔

یاد رہے تحریک حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ دوحہ میں متوقع پہلے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔ وہ نگرانی کرے اور دیکھے گی کہ اسرائیلی وفد کتنا سنجیدہ ہے۔ شرکت کرنے والے اسرائیلی وفد میں "موساد‘‘ اور ’’شن بیٹ‘‘ کے سربراہان کے ساتھ ساتھ یرغمالیوں کے معاملے کے کوآرڈینیٹر نیتزان ایلون اور سیاسی مشیر اوفیر فالک شامل ہیں۔ امریکی وفد کی سربراہی امریکی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ ولیم برنز کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے امور کے لیے صدر جو بائیڈن کے مشیر بریٹ میک گرک کر رہے ہیں۔ مصری وفد کی سربراہی انٹیلی جنس چیف عباس کامل کر رہے ہیں۔

غزہ میں خواتین غم سے نڈھال
غزہ میں خواتین غم سے نڈھال

بڑھتے ہوئے عالمی خدشات

واضح رہے کہ یہ بات چیت گزشتہ ہفتوں کے دوران خاص طورپر حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کے تہران میں قتل کے بعد بین الاقوامی اور علاقائی خدشات میں اضافے کے دوران کی جارہی ہے۔ ہنیہ کے قتل کے کچھ گھنٹے قبل ہی لبنان میں حزب اللہ کے رہنما فواد شکر کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔ ان دونوں افراد کی موت کے بعد ایران اور حزب اللہ نے جوابی حملے کا اعلان کر رکھا ہے۔

مغربی ممالک نے تہران پر شدید دباؤ ڈالا اور اس سے کسی جوابی کارروائی سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثنا گزشتہ منگل کو امریکی صدر نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے سے ایران کو حملہ کرنے سے باز رکھا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں