29 جنوری 2024 کو غزہ کی پٹی کے ساتھ رفح راہداری کے مصری حصے کی تصویر جو فلسطینی علاقے کے جنوبی حصے میں فلسطینی جانب سے لی گئی۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

مصر اپنی غزہ سرحد پر اسرائیلی فوج کو قبول نہیں کرے گا: ریاست سے منسلک میڈیا

اسرائیل فلاڈیلفی راہداری پر فوج برقرار رکھنے پر بضد ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کے ساتھ اپنی سرحد پر اسرائیلی افواج کی مسلسل موجودگی کو قبول نہیں کرے گا، یہ اطلاع پیر کو سرکاری خبری ذرائع نے دی۔

ریاست سے منسلک القاہرہ نیوز نے ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، غزہ جنگ بندی کو یقینی بنانے کی کوششوں میں ایک اہم ثالث قاہرہ نے "تمام فریقوں سے اس بات کا اعادہ کیا" کہ وہ تزویراتی اہمیت کی حامل فلاڈیلفیا راہداری کے ساتھ "کسی بھی اسرائیلی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا"۔

جنگ بندی مذاکرات کا ایک کلیدی اٹل نکتہ اسرائیل سے سرحدی علاقے سے افواج کو ہٹانے کا مطالبہ ہے جس میں رفح راہداری بھی شامل ہے - یہ فلسطینی سرزمین سے واحد حصہ ہے جس پر اسرائیل کا براہِ راست کنٹرول نہیں تھا۔

اسرائیلی افواج نے مئی کے اوائل میں رفح راہداری کے فلسطینی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس اقدام نے ایک اہم امدادی راستہ منقطع کر دیا اور مصر اور دیگر ممالک کی طرف سے اس کی بار بار مذمت کی گئی۔

ذریعے نے مصر کی ریاستی انٹیلی جنس سروس سے منسلک القاہرہ نیوز کو بتایا، مصر اسرائیل اور حماس کے درمیان "اپنی قومی سلامتی کے مطابق ثالثی کر رہا ہے۔"

قطر اور امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات سے جنگ بندی کی بہت کم امید پیدا ہوئی حالانکہ واشنگٹن نے جمعہ کو کہا تھا کہ کچھ پیش رفت ہوئی تھی۔

حماس نے اتوار کو کہا کہ گروپ کے وفد نے قاہرہ جانے سے قبل مصری اور قطری ثالثین سے ملاقات کی تھی جہاں اسرائیلی مذاکرات کاروں کی بھی توقع تھی.

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں