اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحد پر اتوار کی صبح پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد جب جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے جاری تھے کہ اسرائیلی وفد غزہ کی پٹی میں جنگ بندی پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے قاہرہ روانہ ہوا۔
اسرائیلی وفد کی قیادت موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ برنی کر رہے ہیں۔ خلیل الحیہ حماس کے وفد کی سربراہی کر رہے ہیں۔ حماس وفد ہفتہ کو حالیہ مذاکرات کے نتائج کا جائزہ لینے کے لیے قاھرہ پہنچا تھا۔
اس تناظر میں باخبر ذرائع نے اتوار کے روز ’’العربیہ‘‘ کو بتایا ہے کہ مصری ثالث نے پچھلے گھنٹوں میں دباؤ ڈالا ہے کہ فلاڈیلفیا کے محور سے اسرائیلی انخلا کو ایک ایسے حل کے طور پر تقسیم کیا جائے جو حماس کو مطمئن کر سکے۔
انہوں نے معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس کو ایک مصری "یقین دہانی کا پیغام" بھی دیا تاکہ وہ اس اسرائیلی انخلا کو "تقسیم" کرنے پر راضی ہو جائے۔
یاد رہے امریکی تجویز میں فلاڈیلفیا سے دوسرے مرحلے میں انخلا اور پہلے مرحلے کے دوران وہاں اسرائیلی پوائنٹس میں کمی کی بات کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں مصری ثالث نے حماس کے وفد کو قاہرہ کی طرف سے فلاڈیلفیا محور میں اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی کو مسترد کرنے کی تصدیق کی ہے۔ مصر نے زور دیا ہے کہ غزہ میں فوجی آپریشن کے خاتمے تک اسرائیلی موجودگی عارضی رہے گی۔
مصری فریق دونوں فریقوں کے درمیان تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد کے پہلے دن ہی رفح کراسنگ کو مکمل طور پر خالی کرانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ اسے انسانی امداد کے داخلے اور قیدیوں اور زیر حراست افراد کے تبادلے پر عمل درآمد کے لیے تیار کیا جا سکے۔
آٹھ میں سے پانچ پوائنٹس سے انخلا
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے مصری حکام کو اس امکان کے بارے میں مطلع کیا ہے کہ اسرائیلی فوج فلاڈیلفیا محور پر موجود آٹھ میں سے پانچ فوجی پوائنٹس سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج رفح لینڈ کراسنگ کے مغرب میں ایک اور اس کے مشرق میں دو پوائنٹس برقرار رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے وفد کو کل شام اس تجویز کے حوالے سے کچھ تکنیکی تفصیلات موصول ہوئیں۔ یہ فلاڈیلفیا محور میں اسرائیلی فوجی موجودگی کا نقشہ ہے اور رفح کراسنگ کے مغرب اور مشرق کے درمیان نقب میں کریم شالوم تک اس کی نقل و حرکت کا طریقہ کار ہے۔ پانچ پوائنٹس سے اسرائیلی فوج نکل جائے گی۔
نتساریم کوریڈور
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اگر حماس کا ردعمل مثبت ہوتا ہے تو اسرائیل ایک نئی رعایت دے گا اور غزہ کی پٹی کے جنوب سے شمال کی طرف نٹساریم محور کے ذریعے فلسطینیوں کو عبور کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تجاویز کو قبول کرے گا۔ حماس کی شرط یہ ہے کہ اسرائیل نتساریم کوریڈور میں فوج موجود نہیں ہوگی تاکہ ان کی واپسی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
آج اتوار کے دور کی تیاری کے سلسلے میں جمعہ اور ہفتہ کو قاہرہ میں بات چیت کا ایک وسیع دور ہوا۔ مصری ذرائع نے توقع ظاہر کی کہ آج کا دور ایک معاہدے کی تشکیل کے لیے اہم ہو گا جس کا اعلان کیا جائے گا اگر واشنگٹن اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
واضح رہے نیتن یاہو نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کی افواج رفح کراسنگ اور صلاح الدین محور اور شمالی اور جنوبی غزہ کو تقسیم کرنے والے نتساریم کوریڈور سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ واشنگٹن، دوحہ اور قاھرہ ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔