لوگ 20 نومبر 2024 کو جنوبی لبنان کے ساحلی قصبے الصرفند کے مقام پر نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں جو اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بنا۔ (اے ایف پی)

گذشتہ روز لبنان میں دہشت گردوں کے 100 سے زائد مراکز کو نشانہ بنایا: اسرائیلی فوج

لانچرز، ہتھیار ذخیرہ کرنے کی سہولیات پر حملے، دو حزب اللہ کمانڈر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے گذشتہ روز لبنان میں 100 سے زیادہ "دہشت گردانہ اہداف" کو نشانہ بنایا اور ہفتے کے آخر میں حزب اللہ کے دو کمانڈروں کو "ختم" کر دیا۔

فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اہداف میں "لانچرز، ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کی سہولیات، کمانڈ سینٹرز اور فوجی ڈھانچے" شامل تھے۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکی ایلچی آموس ہوچسٹین اسرائیل-حزب اللہ جنگ بندی معاہدہ طے کرنے کے سلسلے میں لبنان میں تھے۔

فوج نے یہ بھی کہا کہ "اتوار کو فضائیہ نے ساحلی علاقے میں حزب اللہ کے ٹینک شکن میزائل اور آپریشن یونٹ کے کمانڈروں کو ختم کر دیا" جو "اسرائیلی شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کے ذمہ دار تھے۔"

فوج نے مزید کہا کہ فوجیوں نے جنوبی لبنان میں "محدود، مقامی اور ہدفی چھاپے" جاری رکھے۔

اسرائیل نے ستمبر کے آخر سے اپنی جنگ کا مرکز غزہ سے لبنان تک وسیع کر دیا ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ کے کم شدت والے حملوں کی وجہ سے تقریباً 60,000 اسرائیلی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں