عراق نے عسکریت پسندوں کے حملے نہ روکے تو اسرائیلی کارروائی ہوسکتی ہے:ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ذرائع نے ’العربیہ‘ اور الحدث کو بتایا کہ امریکہ نے بغداد کو مطلع کیا کہ اس نے اسرائیل کے خلاف مسلح دھڑوں کے مسلسل حملوں کے جواب میں عراقی اہداف پر فضائی حملوں کو روکنے کے لیے اسرائیل پر تمام دباؤ ہٹا دیا ہے۔ واشنگٹن نے عراق سے کہا ہے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے اقدامات کرے ورنہ اسرائیل کسی بھی وقت کارروائی کرے گا۔

ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگرعراقی حکومت نےعراقی سرزمین کے اندر سے اسرائیل کے خلاف عسکری دھڑوں کے حملوں کو نہ روکا تو اسرائیل کے فضائی حملے بہت جلد ہوں گے۔

عراقی سکیورٹی ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ حکومت نے اسرائیلی فضائی حملوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے سیاسی بلاکس کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا اگر دھڑے عراقی سرزمین کے اندر سے اسرائیل پر حملے جاری رکھتے ہیں تو اسرائیل کارروائی کرسکتا ہے۔

اسرائیل نے پیرکے روزاعلان کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کو عراق پر دباؤ ڈالنے کے لیے پیغام بھیج رہا ہے تاکہ وہ ایران کے وفادار گروپوں کے حملوں کو روکے۔

عراقی وزیر اعظم کے ترجمان یحییٰ رسول عبداللہ نے منگل کی شام کہا کہ قومی سلامتی کونسل نے "عراق کی جانب سے اسرائیلی ریاست کے حکام کی طرف سے جاری کردہ اورعراق کے خلاف دی گئی شکایت کو دوٹوک طور پر مسترد کردیا"۔

پیر کے روز اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے اعلان کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عراقی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ "ایران کی وفادار ملیشیاؤں" کی طرف سے اسرائیلی ریاست پر حملے بند کرے۔

حالیہ مہینوں میں ایران کے وفادار عراقی مسلح دھڑے جنہیں "عراق میں اسلامی مزاحمت" کے نام سے جانا جاتا ہے نے بارہا اسرائیل میں اہداف پر ڈرون حملے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی حمایت میں حملے کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں