من الحدود العراقية السورية (أرشيفية- فرانس برس)
عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی کی جانب سے شام کے صدر بشار الاسد کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کا ملک "دہشت گردی" کے مقابلے میں شام کو مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ عراقی فورسز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پرامن سرحد محفوظ ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
عراق میں جوائنٹ آپریشنز کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قیس المحمدوی نے پڑوسی ملک شام میں رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظر سرحد کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا۔
سرحد مکمل طور پر بند
انہوں نے اخباری بیانات میں کہا کہ عراقی سرحد مکمل طور پر بند ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلح افواج ملک کے تحفظ کے حوالے سے سوڈانی احکامات پر کاربند ہیں۔
یہ عراقی اعلان مسلح اپوزیشن دھڑوں کی جانب سے خاص طور پر حلب گورنری میں بڑے پیمانے پر کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔
شام اور عراق کی سرحد
ان دھڑوں نے شام کے دوسرے سب سے بڑے شہر حلب کے ساتھ ساتھ حما کے شمالی دیہی علاقوں اور ادلب کے کچھ علاقوں کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
ہفتہ کی سہ پہر شامی عسکریت پسندوں نے حلب کے ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا جو دمشق کے بعد دوسرا سب سے بڑا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے۔
327 مارے گئے
جبکہ بدھ سے جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 327 افراد مارے گئے، جن میں سے 183 ھیٗۃ تحریر الشام اور دیگر مخالف دھڑوں کے ارکان اور شامی فوج اور اس کے وفادار گروپوں کے 100 ارکان شامل ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق 44 شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اقوام متحدہ کے رابط دفتر برائے انسانی امور نے بتایا کہ حلب میں لڑائیوں کے نتیجے میں 14,000 سے زائد افراد بے گھر ہوئے، جن میں سے تقریباً نصف بچے تھے۔
دوسری جانب شام کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ وہ "تمام علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے اور انہیں دہشت گردوں سے آزاد کرانے کے لیے جلد ہی جوابی کارروائی کی تیاری کررہی ہے‘‘۔