اسرائیل:شام میں حزب اللہ کےہتھیاروں کی سمگلنگ کےمقامات پرحملہ کیا،جنگ بندی کی نزاکت نمایاں
یہ ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے حزب اللہ کے زیرِ استعمال ہے: اسرائیل
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ اسرائیلی طیارے نے لبنان کے ساتھ شام کی سرحد کے قریب حزب اللہ کے ہتھیاروں کی سمگلنگ کے مقامات پر حملہ کیا۔ فریقین کے درمیان چند ہی دن قبل جنگ بندی ہوئی جس سے مہینوں کی لڑائی رک گئی لیکن اس تازہ حملے سے جنگ بندی کی نزاکت کا اندازہ ہو جاتا ہے جس کے نافذ العمل ہونے کے بعد اکّا دکّا حملے ہی ہوئے۔
فوج نے کہا کہ اس نے ان مقامات پر حملہ کیا جو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد شام سے لبنان کو ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے استعمال کیے گئے جس کے بارے میں فوج نے کہا کہ یہ معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی تھی۔ شامی حکام یا اس ملک میں تنازع کی نگرانی کرنے والے کارکنان اور حزب اللہ نے بھی اس پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔
تازہ ترین اسرائیلی حملہ شرقِ اوسط کے دیگر علاقوں میں بدامنی پھیلنے کے بعد سامنے آیا۔ شامی باغیوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر حلب میں در اندازی کرتے ہوئے ایک غیر متوقع حملہ کیا جس سے خطے میں غیر یقینی کی تازہ صورتِ حال پیدا ہو گئی۔
امریکہ اور فرانس کی ثالثی میں فریقین کے درمیان دو ماہ کی ابتدائی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں عسکریت پسندوں کو لبنان کے دریائے لیتانی کے شمال سے انخلا کرنا ہے اور اسرائیلی افواج کو اسرائیل کی سمت میں سرحد پر واپس جانا ہے۔
تشدد کے بار بار ہونے والے واقعات جن میں سنگین جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے، جنگ بندی کی نزاکت کی عکاسی کرتے ہیں جس سے بظاہر تشدد رک گیا ہے۔ فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
اسرائیلی اور لبنانی فوج کی جانب سے بعض علاقوں سے دور رہنے کے انتباہ کے باوجود کئی لبنانی اپنے گھروں کو جنوب کی طرف رواں دواں تھے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے جنوبی گاؤں مجدل زون میں ایک گاڑی پر حملہ کیا جس میں جانی نقصان ہوا ہے لیکن مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ مجدل زون اس علاقے کے قریب ہے جہاں اسرائیلی فوجی بدستور موجود ہیں۔
فوج نے ہفتے کے اوائل میں بغیر کسی وضاحت کے کہا تھا کہ اس کی افواج جو 60 دن کے عرصے میں بتدریج انخلاء تک جنوبی لبنان میں موجود ہیں، علاقے سے "مشتبہ افراد" کو دور رکھنے کے لیے کارروائی کر رہی تھیں اور کہا کہ فوجیوں نے ایک مسجد میں چھپائے گئے ہتھیار تلاش کر کے ضبط کر لیے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے تحت کسی بھی خلاف ورزی پر حملہ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اسرائیل نے دسیوں ہزار بے گھر اسرائیلیوں کی وطن واپسی کو حزب اللہ کے ساتھ جنگ کا ہدف قرار دیا ہے لیکن اسرائیلی وطن واپسی کے بارے میں خوفزدہ ہیں۔ وہ فکرمند ہیں کہ حزب اللہ گروپ اپنی کارروائیوں سے باز نہیں آیا اور اب بھی شمالی کمیونٹیز پر حملہ کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ لبنانی صحت کے حکام کے مطابق تنازع کے دوران لبنان میں اسرائیلی فائرنگ سے 3,760 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں۔ لڑائی میں اسرائیل میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں سے نصف سے زیادہ شہری تھے اور ساتھ ہی جنوبی لبنان میں لڑنے والے درجنوں اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔
-
جنگ بندی معاہدے پر لبنانی فوج کے ساتھ مل کر عمل ممکن بنائیں گے: حزب اللہ سربراہ
لبنانی مزاحمتی گروپ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے عندیہ دیا ہے کہ حزب اللہ جنگ ...
مشرق وسطی -
لبنان : 'اسرائیلی بمباری نے ہمارا سب کچھ تباہ کر دیا'
نباتیہ کے بازار پر لہرانے والا حزب اللہ کا جھنڈا جنوبی لبنان میں ملبے کے ڈھیر پر ...
مشرق وسطی -
جنگ بندی : لبنان میں اسرائیلی فوج کی دوسرے روز بھی بمباری، بچے سمیت تین زخمی
جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی فوج کی طرف سے جنوبی لبنان میں ہفتے کے روز بھی بمباری ...
مشرق وسطی