من بلدة كفركلا في الجنوب اللبناني (رويترز)
اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان میں شہریوں پر فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی
حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کی دی گئی مہلت ختم ہونے کے باوجود آج اتوار کو کئی قصبوں میں اسرائیلی فوج تعینات ہے۔ دوسری جانب جنوبی لبنان میں پرتشدد فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔
بعض سرحدی دیہات کے مکین اپنے گھروں کی طرف جا رہے تھے کہ اسرائیلی فوج نے ان پر فائرنگ کر دی۔
آج اتوار کو العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ کفر کلیہ، حولہ، عطرون اور عیتا الشعب میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 3 افراد ہلاک اور 44 زخمی ہو گئے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے مزید کہا کہ متعدد بے گھر رہائشیوں نے بھی قنطارا کے داخلی راستے پر لبنانی فوج کی طرف سے روکنے کے باوجود طیبہ قصبے میں داخل ہونے کی کوشش کی، کیونکہ چوکی سے ایک کلومیٹر دور اسرائیلی فوج کی موجودگی کی وجہ سے انہیں آگے جانے سے روکا گیا تھا۔
متعدد رہائشیوں نے سرحدی گاؤں عیتا الشعب اور الخیام کا رخ بھی کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی قصبے حولہ میں دو نوجوانوں کو گرفتار کیا اور نامعلوم مقام پر لے گئے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
جب کہ لبنانی فوج کی کمک عیتا الشعب قصبے اور دیگر دیہات کے داخلی راستے پر دیکھی گئی۔
لبنانی سیکورٹی ذرائع نے العربیہ/الحدث کو تصدیق کی ہے کہ جنوب میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔
"ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے"
یہ پیش رفت اسرائیلی فوج کی جانب سے سرحد کے قریب درجنوں لبنانی دیہاتوں کے رہائشیوں کو ان کی طرف واپس نہ آنے کی وارننگ کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ امریکی ثالثی سے 27 نومبر کو نافذ ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے میں یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ اسرائیل کو 60 دنوں کے اندر یعنی 26 جنوری تک اپنی فوجیں واپس بلانا ہوں گی۔اس کے ساتھ لبنانی فوج کی تعیناتی کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔
اس میں یہ بھی شرط رکھی گئی تھی کہ حزب اللہ جسے جنگ کے دوران شدید دھچکا لگا تھا اور وہ اپنے بہت سے سینئر لیڈروں سے محروم ہو چکی ہے، اپنے عناصر اور ساز و سامان کو واپس لے کر دریائے لیطانی کے شمال کی طرف پیچھے ہٹ جائےگی۔ حزب اللہ کو اپنی سرگرمیاں سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور کرنا ہوں گی اور جنوب میں کسی بھی باقی ماندہ فوجی ڈھانچے کو ختم کر دیں گے۔
لیکن اسرائیل نے گذشتہ جمعے کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ لبنان کی جانب سے معاہدے کو "مکمل طور پر" نافذ کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اس کی افواج کا انخلاء مکمل نہیں ہوگا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ "امریکہ کے ساتھ مل کر مرحلہ وار انخلا کا عمل جاری رہے گا"۔