جنوبی لبنان:لبنانی شہری اپنےگھروں کوواپس نہ آئیں،ہم ابھی کہیں نہیں جا رہے: اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی فوج نے ہفتہ کے روز جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات سے بےگھر کیے گئے لبنانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ابھی اپنے گھروں کو واپس نہیں آئیں۔ کیونکہ اسرائیلی فوج نے ابھی جنوبی لبنان سے نکلنے کا فیصلہ نہیں کیا اور اتوار کے بعد بھی اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں موجود رہے گی۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان 27 نومبر 2024 سے ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں اسرائیلی فوج اس امر کی پابند بنائی گئی تھی کہ وہ 60 دنوں کے اندر اندر جنوبی لبنان کو خالی کر دے گی اور واپس اپنے ملک کو چلی جائے گی۔

تاہم اسرائیلی فوج جس نے معاہدے کے بعد صرف ایک دن کے وقفے سے ہی لبنان پر دوبارہ سے بمباری و حملے شروع کر دیے تھے۔ ابھی تک جنوبی لبنان سے نکلنے پر عملاً انکاری ہے۔

ہفتہ کے روز اسرائیلی فوج نے لبنان کی عوام کو خبردار کیا ہے کہ جنوبی لبنان سے بےگھر کیے گئے لبنانی شہری ابھی اپنے گھروں کو واپس نہ لوٹیں کیونکہ ان دیہاتوں پر اسرائیلی فوج کا قبضہ برقرار ہے۔

اتوار کے روز تک ختم ہونے والی 60 دنوں تک کی ڈیڈ لائن کے مطابق اسرائیلی فوج یہ علاقہ چھوڑ کر نہیں جا رہی ۔

لبنان کے اعلیٰ حکام مسلسل امریکہ و فرانس سے اپیلیں کر رہے ہیں کہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے ہر عمل کا پابند بنایا جائے۔ تاہم لبنانیوں کی یہ درخواست ابھی عملی پذیرائی پانے سے محروم ہے۔

یاد رہے اسرائیل و لبنان کے درمیان جنگ بندی کا یہ معاہدہ امریکہ و فرانس کی کوششوں سے ممکن ہوا تھا۔ اس لیے لبنانی حکام امریکہ و فرانس سے ہی اپیلیں کر رہے ہیں کہ وہ اس معاہدے پر عمل بھی کرائے۔

اسرائیل نے جمعہ کے روز قرار دیا تھا کہ اس معاہدے کے مکمل نفاذ میں لبنانی ریاست اپنا کردار ادا نہیں کر رہی ہے۔ جس کا بالواسطہ طور پر یہ مطلب تھا کہ اسرائیلی فوج بھی ابھی جنوبی لبنان چھوڑ کر جانے والی نہیں ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کے حوالے سے ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کتنا عرصہ اس علاقے پر قابض رہنا چاہتی ہے۔

لبنان نے ہفتہ کے روز اسرائیل پر الزام لگایا تھا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کو خالی کر کے واپس جانے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر سامنے آنے والے بیان میں ایک نقشہ پوسٹ کیا گیا ہے۔ جس میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج ان درجنوں دیہات کے لبنانی شہریوں کو یاد دلا رہی ہے کہ وہ تا اطلاع ثانی اپنے گھروں اور علاقوں میں واپس نہ آئیں۔

اسرائیلی فوج کے اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی لبنانی شہری جنوبی دیہات اور آبادیوں کی طرف آئے گا وہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈالے گا۔

واضح رہے اسرائیل کی یہ فوج جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں مختلف فاصلوں تک موجود ہے۔ جنوبی لبنان کے بعض حصوں میں اسرائیلی فوج کی موجودگی 2 کلومیٹر تک ہے اور بعض میں یہ موجودگی 10 کلومیٹر تک ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ہتھیاروں پر قبضہ کر رہے ہیں اور حزب اللہ کے جنوبی لبنان میں فوجی انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہی ہے۔

ادھر امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے دو ماہ مکمل ہونے کے موقع پر فوری ضرورت ہے کہ جنگ بندی میں مزید اور عارضی توسیع کی جائے۔ یہ بیان امریکی وائٹ ہاؤس کی طرف سے جمعہ کے روز سامنے آیا ہے۔ دوسری طرف فرانس اور لبنان کے صدور کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والے تبادلہ خیال میں لبنان کے صدر جوزف عون نے فرانس کے صدر میکروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کو معاہدے پر عمل کا پابند بنائے۔

اسرائیل کی طرف سے مسلسل جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے بعد لبنانی حزب اللہ نے بھی یہ کہا ہے کہ اسرائیل کے فوجی انخلا میں کوتاہی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ۔

حزب اللہ نے کہا ہے کہ لبنانی ریاست کو اسرائیل کی طرف سے ان خلاف ورزیوں سے نمٹنا چاہیے اور اس کے لیے تمام ضروری طریقے اختیار کرنے چاہییں جو انٹرنیشنل چارٹر میں دیے گئے ہیں۔ تاکہ اسرائیلی خلاف ورزیاں رک جائیں۔

اسرائیل کا یہ کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے خلاف اپنی مہم جاری رکھی ہوئی ہے اور شمالی اسرائیل میں وہ اپنے شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے اقدامات کر رہی ہے جو حزب اللہ کے راکٹوں کی وجہ سے علاقہ چھوڑنے پر ہزاروں کی تعداد میں مجبور ہو گئے تھے۔ لبنان کی فوج نے بھی ہفتہ کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے شہری جنوبی دیہاتوں اور علاقے میں اپنے گھروں میں جانے سے فی الحال گریز کریں اور انتظار کریں۔ تاکہ علاقے سے اسرائیل کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں