بے گھر فلسطینیوں کی اپنے گھروں کی واپسی کے مناظر پر اسرائیلی انتہا پسند وزیر سخت برہم
اسرائیلی حکومت کے سبکدوش ہونے والے سخت گیر وزیر ایتمار بن گویر نے ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کی 15 ماہ کی موت اور تباہی کی جنگ کے بعد شمالی غزہ میں واپسی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے پیر کو ان مناظر کو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا "ذلت آمیز حصہ" قرار دیا۔
بین گویر نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں کہا کہ "آج صبح نیٹزارم روڈ کا کھولا جانا اور غزہ کے دسیوں ہزار باشندوں کا شمالی غزہ کی پٹی میں داخلہ حماس کی فتح کی تصویر ہے۔ بے معنی معاہدے کا ایک اور ذلت آمیز حصہ ہی نہیں بلکہ مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کی طرح دکھائی دیتی ہے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "بہادر اسرائیلی فوج نے ان تصاویر کو ممکن بنانے کے لیے غزہ کی پٹی میں نہ جنگ لڑی اور نہ ہی اپنی جانیں قربان کیں"۔
قومی سلامتی کے سابق وزیر نے غزہ کی پٹی میں جنگ کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں جنگ اور تباہی کی طرف واپس آنا چاہیے"۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
غزہ کے لوگ سوموار کی صبح رشید اسٹریٹ پر جمع ہوئے اور شمال کی طرف لوٹنا شروع کر دیا۔ اسرائیلی فوج نے نیٹزارم کے محور سے انخلاء شروع کرنے کا اعلان کیا اور مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے رشید سٹریٹ کے ذریعے رہائشیوں کو پیدل واپس جانے کی اجازت دی۔
خبر رساں ایجنسیوں کی طرف سے شائع ہونے والی تصاویر میں بہت سے فلسطینیوں کے دل کو چھو لینے والے مناظر دکھائے گئے ہیں جو اپنا سامان لے کر جا رہے ہیں اور اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے پیدل چل رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اسرائیل کی خونریز جنگ کے دوران شمالی غزہ کی پٹی سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تباہی کی شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی۔