غزہ میں بے گھر افراد کی شمال کی سمت واپسی ، اسرائیلی کشتیوں کی رفح پر بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ پٹی میں ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کی جنوبی علاقے سے شمال کی جانب واپسی کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر ڈالی۔

العربیہ نیوز چینل کے نمائندے نے آج پیر کے روز بتایا ہے کہ اسرائیلی جنگی کشتیوں نے رفح پر بم باری کی ہے۔

گذشتہ روز اتوار کو بھی معاہدے کی خلاف ورزی میں غزہ کی پٹی کے وسط اور جنوب میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 2 فلسطینی جاں بحق اور 20 زخمی ہو گئے تھے۔

یہ تازہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہزاروں بے گھر فلسطینی غزہ کی پٹی کے جنوب سے شمالی علاقوں کی طرف پیدل جا رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے علاقوں میں واپسی کے لیے 15 ماہ تک خون، تباہی، ہلاکتوں اور آنسوؤں کے بیچ انتظار کیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی میں ہزاروں فلسطینیوں کی شمال کی جانب واپسی کو اسرائیلی خاتون قیدی اربیل یہود کی رہائی کے ساتھ مربوط کیا تھا۔ یہ بات ہفتے کے روز نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہی گئی۔

اس حوالے سے بنیادی اختلاف یہ رہا کہ فلسطینی گروپوں کی جانب سے اربیل کو "فوجی" قرار دیا جا رہا تھا جب کہ اسرائیل کا اصرار تھا کہ وہ "شہری" ہے۔

رواں ماہ 19 جنوری کو حماس اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی معاہدے کا اطلاق ہوا۔ مصر، قطر اور امریکا کی وساطت سے طے پانے والا یہ معاہدہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔ اس میں پہلا مرحلہ 42 روز جاری رہے گا۔ اس دوران میں دوسرے اور تیسرے مرحلے کے آغاز کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں