غزہ کی الرشید سٹریٹ: دو نوجوانوں نے بلندی پر فلسطینی پرچم لہرا دیا، لوگوں میں خوشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ہزاروں بے گھر لوگ جنوب سے شمالی غزہ کی پٹی کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ افراد الرشید سٹریٹ سے ہوتے ہوئے نیٹزارم چوکی کی طرف جا رہے ہیں۔ الرشید سٹریٹ سے جانے والے لوگ اپنے ساتھ کچھ سامان بھی لے جا سکتے ہیں۔ قافلوں کی واپسی کے دوران الرشید سٹریٹ پر دو نوجوانوں نے اس وقت توجہ حاصل کرلی جب انہوں نے ایک بلندی پر کھڑے ہو کر فلسطینی پرچم لہرا دیا۔

اس ساحلی سڑک پر غزہ کے ان باشندوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں جو پٹی کے شمال میں اپنے تباہ شدہ گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے اور 15 ماہ سے زیادہ جاری رہنے والی تباہ کن جنگ کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے تو اسی دوران دو نوجوانوں نے فلسطینی پرچم بلند کرکے لوگوں کی توجہ حاصل کرلی۔

"ڈرون" کیمرے نے ایک لمبے لوہے کے کھمبے پر کھڑے دو نوجوانوں کی ویڈیو بنا لی۔ اس منظر نے بہت سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔ اس دوران فلسطینیوں نے اپنے گھروں کو واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔ الرشید سٹریٹ غزہ کی پٹی کی تنگ ساحلی پٹی کے ساتھ اہم ترین سٹریٹس میں سے ایک ہے۔ 15 ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران کئی سانحات رونما ہوئے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ میں غزہ میں بڑی تباہی آئی ہے۔ 19 جنوری 2024 کو جنگ بندی کا نفاذ ہوا ہے۔ الرشید سٹریٹ پٹی کے شمال اور جنوب کو 41 کلومیٹر کی لمبائی کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ سٹریٹ پانچ گورنریٹس سے گزرتی ہے۔ اس کی اہمیت صلاح الدین سٹریٹ کی اہمیت کے برابر ہے۔

گزشتہ 17 سالوں کے مسلسل محاصرے کے دوران یہ سٹریٹ غزہ کی پٹی کے لوگوں کے لیے ایک آؤٹ لیٹ تھی۔ مشہور گلی میں 7 اکتوبر 2023 کی جنگ سے پہلے بہت سی ریزورٹس اور اونچی عمارتیں موجود تھیں۔ اسے ایک اقتصادی مرکز بھی سمجھا جاتا تھا اور جنگ کے بعد اس کا بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیلی فوج نے الرشید سٹریٹ کے ایک حصے کا کنٹرول سنبھال لیا اور غزہ کی پٹی میں ان کی دراندازی کے بعد اسرائیل نے شہریوں کی نقل مکانی کو صلاح الدین سٹریٹ سے الرشید سٹریٹ کی طرف موڑ دیا تھا۔

العربیہ کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے نیٹزارم محور سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔ یہ محور پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران اسرائیل نے بے گھر افراد کے لیے شمال کی طرف گزرنے کے لیے اس راہداری کو کھولنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسرائیل نے کہا تھا کہ جب تک حماس اسرائیلی شہری اربیل یہود کو رہا نہیں کرے گی لوگوں کو شمالی غزہ کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بعد ازاں حماس نے کہا تھا کہ اربیل کو اگلے ہفتے رہا کردیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں