اسرائیل کو شام میں شہریوں کی ہلاکت پر تشویش ، یورپ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں 48000 سے زائد فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد جنگ بندی سے گزرنے والے اسرائیل نے یورپی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں شہریوں کی حالیہ ہلاکتوں کے پیش نظر نئی شامی رجیم کو قانونی حیثیت دینے کے عمل کو روک دے۔

یہ مطالبہ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے اتوار کے روز ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کیا ہے۔

جرمن اخبار کے ساتھ انٹرویو میں اسرائیلی وزیر نے کہا 'یورپی برادری کو حقائق کو سمجھنے میں کسی بھی صورت ناکام نہیں ہونا چاہیے۔ یورپی برادری کو جاگنا چاہیے اور شام کی عبوری حکومت کو قانونی تسلیم کرنے سے پہلے اس کے اقدامات اور کارروائیوں کو دیکھنا چاہیے۔ جو حیران کن حد تک ایک دہشت گردانہ پس منظر رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کس طرح لوگوں کی قتل و غارتگری ہو رہی ہے۔ '

شام میں حالیہ کشیدگی کی لہر جعمرات کے روز شروع ہوئی۔ جب نئی سرکاری فوج اور سابق بشار الاسد کے وفاداروں کے درمیان بحر متوسط کے ساحل کے نزدیک ناخوشگوار واقعات پیش آئے۔ بشار الاسد کو ھیتہ التحریر الشام نے 8 دسمبر کو اقتدار سے اکھاڑ پھینکا تھا اور اس کی جگہ اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

رواں ماہ سے ایک باضابطہ عبوری حکومت شام میں بروئے کار ہے اور عبوری حکومت نے نئی فوج کی تشکیل کر دی ہے۔

جمعرات کے روز سے شروع ہونے والے ان کشیدگی کے واقعات میں اب تک کی یہ سب سے زیادہ رپورٹ کی گئی ہلاکتیں ہیں۔

شام کے لیے قائم انسانی حقوق کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارے 'آبزرویٹری' کے مطابق 745 علوی شہریوں کو لطاکیہ اور طرطوس کے صوبوں میں قتل کیا گیا ہے۔ جبکہ شامی فوج کے 115 ارکان ہلاک ہوئے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں بشار الاسد کے وفاداروں کی 148 کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

'آبزرویٹری' کے مطابق مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1018 ہو چکی ہے۔

یاد رہے بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کے مختلف اور حساس مقامات پر بے دھڑک بمباری کی ہے۔ جبکہ گولان کی پہاڑیوں کے ساتھ جڑا بفر زون کا علاقہ بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ تاہم اسرائیل کی بار بار کی جانے والی بمباری کے نتیجے میں شامی شہریوں کی ہلاکتیں اس طرح رپورٹ نہیں ہو سکی ہیں۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے انٹرویو میں بین الاقوامی برادری کا بالعموم اور یورپی برادری کا بالخصوص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مہینوں کے دوران انہوں نے شامی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشراع سے جوق در جوق ہاتھ ملانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ احمد الشراع اور اس کے ساتھی جہادی تھے اور جہادی ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انہوں نے اب ٹائیز لگانا شروع کر دی ہیں اور سوٹ پہننا شروع کر دیے ہیں۔

گیڈون سائر نے کہا اس ہفتے کے آخر پر یہ سارا نقاب چہروں سے اتر آیا ہے اور الشراع کے لوگوں نے بے رحمی کے ساتھ اپنے ہی لوگوں کا قتل کیا ہے۔

واضح رہے کہ ھیتہ التحریر الشام کو امریکہ سمیت کئی حکومتوں نے اب بھی دہشت گردی کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشراع یورپ و دوسری دنیا کے ملکوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بشار الاسد کے زمانے کی عائد کردہ پابندیوں کو شام کے خلاف نرم کیا جائے۔

پچھلے ماہ یورپی یونین نے شام پر توانائی کے شعبے میں عائد کردہ پابندیوں کو روک دیا ہے۔ نیز ٹرانسپورٹ، بینکنگ سیکٹر پر سے بھی پابندیاں ختم کی ہیں۔ تاکہ ملک کی تعمیر نو میں یہ شعبے اپنا کردار ادا کر سکیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں