شام کے سابق صدر بشار الاسد کے "حامیوں اور باقیات" کے مسلح افراد کے ساتھ شام کے ساحل پر کئی دنوں سے جاری کشیدگی اور خونریز تصادم کے بعد صورت حال پر اسرائیل نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ شام کے ساحلی علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال بدستور خراب ہوتی رہے گی۔
"ایران اور حزب اللہ بھی"
انہوں نے نشاندہی کی کہ بشار الاسد کے بھائی ماہر جو روس میں ہیں وہ سابق شامی فوج کے فورتھ ڈویژن کے سربراہ تھے۔ وہ دور سے صورتحال کو ہوا دے رہے ہیں۔
اسرائیلی میگزین EPOCH کی رپورٹ کے مطابق حکام نے کہا کہ انہوں نے نوٹ کیا ہے کہ ایران اور حزب اللہ بھی شام میں نئی انتظامیہ اور عبوری صدر احمد الشرع کی حکمرانی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آج اتوار کو احمد الشرع نے شہری امن اور قومی اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ایک بار پھر اپیل کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ساحل میں بحران "بہ حفاظت ختم ہو گیا۔ شام کے لیے ہمیں کوئی خوف نہیں کرنا چاہیے۔
دریں اثنا بشارالاسد کے کزن رامی مخلوف مہینوں غائب رہنے کے بعد منظر عام پر آئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ جمعرات سے بحیرہ روم کے ان ساحلی علاقوں اور اس کے پہاڑوں میں سابق حکومت کے باقیات کے عناصر کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کشیدگی بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں تقریباً 700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کچھ علوی افسران سابق حکومت کے دور میں فوجی اور سکیورٹی اداروں میں موجود تھے جو ملک میں کسی بھی اپوزیشن کو دبانے کے لیے گرفتاری اور تشدد پر انحصار کرتے تھے۔
تاہم شام کے سابق صدر کے قریبی اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار پچھلے ساتل آٹھ دسمبر کو ان کی حکومت کے سقوط کے بعد سے روپوش ہیں۔
اگرچہ ماہر الاسد کا ٹھکانہ ایک معمہ بنی ہوئی ہے، لیکن یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ بھی روس فرار ہو گیا ہے۔
-
شام: ایک دہائی کے بعد معروف شامی اخبار کی اشاعت کا دوبارہ آغاز
جمہوریہ شام کے معروف قومی اخبار ' اناب البلادی نے دارالحکومت دمشق میں ایک بار پھر ...
مشرق وسطی -
"شام میں موجودہ کشیدگی کے پیچھےحزب اللہ کا ہاتھ، اہم شخصیات گرفتار کرلیں"
شام کے جنوبی علاقے اللاذقیہ میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ اور ...
مشرق وسطی -
شام میں جھڑپیں جاری؛ ہمیں مشکلات کا اندازہ تھا: احمد الشرع
نئے حکمرانوں سے منسلک افواج اور علوی فرقے میں بدترین تشدد جاری
مشرق وسطی