شام میں جھڑپیں جاری؛ ہمیں مشکلات کا اندازہ تھا: احمد الشرع
نئے حکمرانوں سے منسلک افواج اور علوی فرقے میں بدترین تشدد جاری
شامی رہنما احمد الشرع نے اتوار کو تشدد میں ملوث متحارب فریقین سے امن کی اپیل کی۔ بشار الاسد کے زوال کے بعد اس وقت نئے حکمرانوں سے منسلک افواج اور الاسد کے علوی فرقے کے جنگجوؤں کے درمیان بدترین فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے جس میں ساحلی علاقوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس سلسلے میں عبوری صدر الشرع نے کہا، "ہمیں قومی اتحاد اور داخلی امن برقرار رکھنا ہے، ہم مل جل کر رہ سکتے ہیں۔"
ایک زیرِ گردش ویڈیو میں الشرع نے دمشق میں اپنے بچپن کے محلے المزہ کی ایک مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا، "شام کے بارے میں یقین رکھیں، یہ ملک بقا کی صلاحیتیں رکھتا ہے۔ شام میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ متوقع چیلنجز کے اندر ہے۔"
شام کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ان کے کم از کم دو سو ارکان الاسد سے وفاداری کی وجہ سے سابق فوجی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے جب ان کی افواج پر حملے ہوئے اور گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔
نئی انتظامیہ کی مشکلات میں گھری ہوئی افواج کی حمایت کے لیے جب پورے ملک سے شام کے نئے رہنماؤں کے ہزاروں مسلح حامی ساحلی علاقوں میں اترے تو یہ حملے انتقامی ہلاکتوں کی صورت اختیار کر گئے۔
حکام نے سرکش مسلح ملیشیا پر درجنوں نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل اور شام کی سابقہ حکمران اقلیت کے آباد کردہ دیہات اور قصبات میں گھروں پر مہلک چھاپوں کا الزام لگایا۔ یہ افراد سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے آئے تھے اور ماضی کے جرائم کے لیے الاسد کے حامیوں کو موردِ الزام قرار دیتے رہے ہیں۔
برطانیہ میں قائم جنگ مانیٹر سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے ہفتے کے روز کہا کہ بحیرۂ روم کے ساحلی علاقے میں دو دن کی لڑائی 13 سال پرانی خانہ جنگی میں برسوں کے بدترین تشدد کے مترادف تھی۔
شام کے ایک سکیورٹی ذریعے نے اتوار کو رائٹرز کو بتایا کہ کئی قصبات میں تمام رات جھڑپیں جاری رہیں جہاں مسلح گروپوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی اور ساحلی علاقے کے اہم شہروں کی طرف جانے والی شاہراہوں پر گھات لگا کر گاڑیوں پر حملہ کیا۔