اسرائیل نے سرحد پر زخمی لبنانی فوجی گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے لبنان کی سرحد پر ایک زخمی لبنانی فوجی کو گرفتار کرلیا۔

سوموار کو العربیہ اور ا س کے برادر ٹی وی چینل الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ اسرائیل نے ایک لبنانی فوجی کو کل اتوار کو سرحدی قصبے کفار شعبا میں کومبنگ آپریشن کے دوران زخمی ہونے کے بعد گرفتار کر لیا۔

زخمی فوجی سرحد پر پکڑا گیا

انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار فوجی اپنی فوجی ڈیوٹی پر نہیں تھا۔

اس نے بتایا کہ گرفتار لبنانی فوج خاندانی دورے پر علاقے میں تھا کیونکہ وہ کفار شعبا قصبے کا رہائشی ہے۔ فوجی شہری سادہ لباس میں تھا جب اسے کومبنگ آپریشن کے دوران گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ واقعہ اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے ملک کے جنوب میں کئی مقامات پر لگاتار درجنوں حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے جبل الریحان میں تلہ زغربن یاطر وزيقين،،واديا ، البابلیہ اور تبنا میں حملے کیے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ہفتہ کے روز اس نے مریصع کے علاقے پر بھی چھاپہ مارا، جو انصار اور زرایہ قصبوں کے درمیان واقع ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج نے یہ حملے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے فوجی ٹھکانوں پر کیے۔ اس نے تنظیم سے تعلق رکھنے والے ہتھیاروں اور میزائل لانچ پیڈز کا پتہ لگایا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان مقامات پر ان ہتھیاروں اور پلیٹ فارمز کی موجودگی اسرائیل کے لیے خطرہ ہے اور یہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مفاہمت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

جنگ بندی کا معاہدہ

قابل ذکر ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 27 نومبر 2024ء کو نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے میں 60 دن کے اندر جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء کی شرط رکھی گئی تھی لیکن اس نے اس کی پاسداری نہیں کی اور جنوب میں اپنی موجودگی میں 18 فروری تک توسیع کا مطالبہ کیا تھا۔

لبنانی حکام نے اس شرط پر دوسری توسیع پر رضامندی ظاہر کی کہ اسرائیل کے زیر حراست لبنانی قیدیوں کو، جن کی تعداد سات بتائی جاتی ہے کو رہا کرے گا۔

اٹھارہ فروری کو اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت متعدد سرحدی قصبوں سے اپنی افواج کو واپس بلا لیا، تاہم پانچ تزویراتی اہمیت کے حامل مقامات پر اسرائیلی فوج بدستور موجود ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں