اسرائیل کی فوج نے اتوار کے روز ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری کی جگہ ایک نئے فوجی ترجمان کی تقرری کا اعلان کیا۔ ہگاری بطور فوجی ترجمان ملک کی جنگی کوششوں کا چہرہ تھے اور اب عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نئے ترجمان ایفی ڈیفرین نے 2006 میں ایک ٹینک بٹالین کمانڈر کے طور پر "دوسری لبنان جنگ میں حصہ لیا اور زخمی ہوئے"۔ انہوں نے "اہم عہدوں" پر خدمات انجام دیں جن میں حال ہی میں بین الاقوامی تعاون ڈویژن کے سربراہ کے طور پر کام شامل ہے۔
اکتوبر 2023 میں حماس کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد ڈیفرین کے پیشرو ڈینیئل ہگاری کا نام زبان زدِ عام ہو گیا جو میڈیا اور عوام کو تقریباً روزانہ اور بعض اوقات دن میں کئی بار بریفنگ دیتے تھے۔
فوج نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ ہگاری مارچ میں اپنی مدت کے اختتام پر مستعفی ہو جائیں گے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق انہوں نے فوج چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ نئے چیف آف سٹاف نے انہیں ترقی دینے سے انکار کر دیا تھا۔
جنگ کے دوران ہگاری کے بعض بیانات حکومتی تنقید کا باعث بنے۔
دسمبر میں ہگاری نے ایک بل پر اعلانیہ تنقید کرنے پر معذرت کی جو وزیرِ اعظم کو خفیہ معلومات افشاء کرنے والے فوجیوں کی حفاظت کے بارے میں تھا۔
انہوں نے جون میں کہا کہ حماس کو ختم نہیں کیا جا سکتا تھا جس پر حکومت کی طرف سے فوری ردِ عمل آیا۔
ہگاری نے اسرائیل کے نشریاتی ادارے چینل 13 کو بتایا تھا، "یہ کہنا کہ ہم حماس کو غائب کر دیں گے، لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ حماس ایک نظریہ ہے، ہم کسی نظریے کو ختم نہیں کر سکتے۔"
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے ان کے تبصروں کو فوراً مسترد کر دیا تھا۔