فتوش کو الوداع، رمضان المبارک کی افطاری لبنانیوں پر بوجھ بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

لبنان برسوں سے جاری اقتصادی بحران سے دوچار ہے تو وہیں حالیہ جنگ نے اس المیے کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ بحران کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب لبنانی عوام کے لیے رمضان المبارک میں افطاری یھی بوجھ بنتی جارہی ہے۔

موجودہ معاشی حقیقت نے لبنانی خاندان پر خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کو مسلط کر دیا ہے ۔ ان کے لیے پورے مہینے میں روزانہ افطاری کی ضروریات کو پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے افطاری کی تیاری بہت سے خاندانوں کے لیے ایک حقیقی بوجھ بن گیا ہے۔ ان کے لیے "سوپ"، "فتوش" اور "فرنچ فرائز" جیسی عام ڈشز کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔

اس بارے میں بیروت کے علاقے الملا میں سبزیوں کی دکان پر کام کرنے والے محمد شمالی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ فتوش کی ایک ڈش کی قیمت تقریباً 800 ہزار لبنانی پاؤنڈ یا تقریباً 10 ڈالر ہے ۔ اس ڈش کے بنیادی اجزا میں کھیرے، ٹماٹر، بند گوبھی، پیاز، مولی، لیموں اور پودینہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں سرخ گوبھی اور دیگر اضافے بھی کیے جا سکتے ہیں۔ یہ افطاری کی اہم ڈش ہے۔ اس کی قیمت اب ایک ملین لبنانی لیرہ تک پہنچ گئی ہے۔

انفارمیشن انٹرنیشنل کے محقق محمد شمس الدین نے اس حوالے سے کہا ہے کہ لبنان کے 70 فیصد خاندانوں کو 30 دنوں کے دوران رمضان کی افطار کی تیاری میں دشواری کا سامنا ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر کا انحصار رمضان کے مہینے میں بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات پر ہوتا ہے۔

رمضان کی افطاری کی قیمت کے بارے میں شمس الدین نے نشاندہی کی کہ افطاری کی کم از کم قیمت تقریباً ڈیڑھ ملین لبنانی پاؤنڈ یا تقریباً 17 ڈالر ہے۔ فتوش کی ایک پلیٹ کی قیمت تقریباً 10 ڈالر بنتی ہے۔ اس طرح رمضان کی افطاری کی کم از کم قیمت تقریباً 27 ڈالر ہے۔ انہوں نے بتایا لبنانی خاندان کو رمضان المبارک کے دوران جوس، مٹھائیوں اور دیگر پکوانوں کے بغیر معمولی افطار کی تیاری کے لیے 800 ڈالر سے زیادہ کی آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔

شہریوں کی شکایات

شہری افطاری کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی شکایت کر رہے ہیں۔ شہری محمد سلامہ نے رمضان المبارک میں پیش آنے والی اس صورتحال کو "افسوسناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں روزانہ 5 ملین لیرے سے کم کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ مٹھائیوں اور جوس کے بغیر افطاری کے لیے بنیادی اشیا کا خرچہ ہے۔ انہوں نےبتایا انہیں اپنی تین بیٹیوں اور ان کے شوہروں کی افطاری کی میزبانی بھی کرنا ہوتی ہے۔

اتنی رقم کا بندوست نہ کرسکنے پر غصے اور بے بسی کا اظہار کرتےہوئے محمد سلامہ نے بتایا کہ انہیں افطاری کی تیاری کے لیے اپنے بچوں سے مالی مدد لینے پرمجبور ہونا پڑتا ہے۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور علی نے کہا کہ میز پر ہر روز گوشت، چکن اور مٹھائیاں موجود نہیں ہو سکتیں۔ ہمارا خاندان اپنی افطاری میں سے بعض پکوانوں کو خارج کر کے خود پسندی اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ چار افراد پر مشتمل ایک گھریلو خاتون مایا ڈائیبس نے یہ بھی بتایا کہ روزانہ کھانا تیار کرنا ایک "بڑا چیلنج" بن گیا ہے۔

شدید بحران

واضح رہے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بیروت میں گوشت اور چکن کی قیمتوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ایک کلو مرغی کی اوسط قیمت تقریباً 800 ہزار لبنانی لیرا یا پاؤنڈ بن گئی ہے۔ ایک کلو گوشت کی قیمت تقریباً ڈیڑھ ملین پاؤنڈ یا لیرا ہے۔

ٹریڈنگ اکنامکس کی ویب سائٹ کی طرف سے شائع ہونے والی تازہ ترین رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ لبنان میں صارف قیمت انڈیکس میں جنوری 2025 میں پچھلے مہینے کے مقابلے میں 1.10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ دسمبر 2024 میں 2.39 فیصد اضافے کے بعد چار ماہ میں سب سے چھوٹا اضافہ ہے۔ یہ صارفین کی طرف سے اشیا اور خدمات کی مانگ میں کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ خیال رہے لبنان میں معاشی تباہی کے نتیجے میں ملازمین کی بڑی تعداد کو برطرف کیا گیا ہے۔ ملک میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں