من مسيرات احتجاج ضد حماس في غزة
’’ہمارے بچوں کا خون سستا نہیں‘‘ کے بینرز کے ساتھ غزہ میں حماس مخالف مظاہرے جاری
شجاعیہ کے قبائل نے حماس کے خلاف احتجاج کی کال دی اور کہا خاموشی اب کوئی آپشن نہیں ہے
غزہ میں جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے حماس مخالف مظاہرے ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔
عینی شاہدین نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی میں متعدد مقامات پر مظاہرین نے دوسرے دن بھی نعرے لگائے اور تحریک حماس سے غزہ کی پٹی پر حکمرانی چھوڑنے کا مطالبہ کیا اور حماس کے خلاف نعرے لگائے۔ اسرائیلی فوج کے فضائی حملے دوبارہ شروع کرنے کے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد یہ مظاہرے کیے گئے ہیں۔
غزہ سٹی میں ہونے والے ایک مظاہرے میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور اسی طرح کے ایک مظاہرے میں شمالی غزہ کی پٹی کے قصبے بیت لاہیا میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ کچھ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھتے تھے۔ ایک بینر پر لکھا تھا۔ "حماس ہماری نمائندگی نہیں کرتی،" ۔ ایک دوسرے بینر پر تھا "ہمارے بچوں کا خون سستا نہیں ہے۔"
Your browser doesn’t support HTML5 video
غزہ کی پٹی کے علاقے شجاعیہ کے قبائل نے بدھ کی سہ پہر حماس تحریک کے خلاف احتجاج کی کال دی اور اس بات پر زور دیا کہ خاموشی اب کوئی آپشن نہیں ہے۔
قبائل کی طرف سے جاری کردہ بیان میں حماس کے رہنماؤں پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ انہیں نظر انداز کر رہے ہیں اور غزہ کی پٹی کے لوگوں کی تجارت کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی کسی مخصوص دھڑے یا گروہ تک محدود نہیں ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
منگل کو غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس میں رات وقت کے احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جہاں مظاہرین نے جنگ کے خاتمے اور حماس سے پٹی کو چلانے کا مطالبہ بند کرنے کا مطالبہ کرنے کے نعرے لگائے۔ غزہ کی پٹی کے ایک غیر معمولی منظر میں ہزاروں فلسطینیوں نے منگل کے روز پٹی کے شمال میں بیت لاہیا اور جبالیہ کے قصبوں کی سڑکوں پر احتجاجی مارچ میں حصہ لیا۔ مظاہرین نے اس جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا جس نے شہریوں کو تھکا دیا ہے اور ان پر سانحات اور تباہی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔