غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف نئے مظاہروں کی کال !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

غزہ میں الشجاعیہ کے علاقے کے قبائل نے آج بدھ کی دوپہر حماس تنظیم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی کال دی تھی۔ قبائل نے باور کرایا ہے کہ اب خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

قبائل کی جانب سے جاری بیان میں حماس کی قیادت پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے عوام کو نظرانداز کیا اور غزہ کی پٹی کے لوگوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ غزہ کی پٹی کسی ایک جماعت یا گروہ کی جاگیر نہیں ہے۔

غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس میں منگل کی شب لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر آ گئے۔ احتجاجیوں نے نعرے بازی کی جس میں جنگ روکنے اور حماس کو غزہ کی پٹی کے انتظام سے دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

منگل کے روز غزہ کی پٹی میں نادر نوعیت کا منظر دیکھا گیا جب پٹی کے شمال میں بیت لاہیا اور جبالیا میں ہزاروں فلسطینی احتجاجی ریلیوں میں سڑکوں پر نکل آئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اس جنگ کو روکا جائے جس نے شہریوں کو مصائب اور تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹوں میں غزہ کی پٹی کے شمال میں سیکڑوں فلسطینیوں کے احتجاج کو دکھایا گیا۔ مظاہرین جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے اور ساتھ ہی "حماس نکلو نکلو" کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ یہ حماس تنظیم کے خلاف جذبات کا نادر اظہار تھا۔

ایکس پلیٹ فارم پر وائرل ہونے والے ایک وڈیو کلپ میں احتجاجیوں کو "نکلو نکلو نکلو ، حماس باہر نکلو" کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ وڈیو کلپ غزہ کی پٹی کے شامل میں بیت لاہیا کے علاقے کا ہے جو منگل کے روز ریکارڈ ہوا۔

احتجاجی ریلیوں کی خاص بات یہ تھی کہ ان میں صرف جنگ کے خاتمے کے مطالبے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ حماس تنظیم کے حوالے سے بڑھتا ہوا غم و غصہ بھی واضح طور سامنے آیا۔ بہت سے لوگ خود کو درپیش الم ناک حالات کا ذمے دار حماس کو ٹھہرا رہے ہیں۔

محمد الکیلانی عربی زبان کے ٹیچر اور دو بچوں کے والد ہیں۔ اسرائیلی بم باری میں ان کا اسکول تباہ ہو گیا اور وہ ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ الکیلانی کہتے ہیں کہ "ہم خبروں کے بلیٹن میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار نہیں ہیں، ہم انسان ہیں جن کے گھر ، گھرانے اور خواب ہیں۔ ہم ان جنگوں سے تھک چکے ہیں جو ہر بار ہم سے ہماری زندگی چرا لیتی ہیں"۔

غزہ میں شہریوں میں یہ شعور بڑھ رہا ہے کہ وہ ایک ایسے تنازع میں پھنسے ہوئے ہیں جو صرف سیاسی مفادات کے کام آ رہا ہے جب کہ عوام سب سے بڑی قیمت چکا رہے ہیں۔

پچاس سالہ ابو خالد ابو ریاش ایک دکان کے مالک تھے۔ بم باری میں ان کی دکان تباہ ہو گئی جس کے بعد وہ سب کچھ گنوا بیٹھے۔ اب وہ اور ان کا گھرانہ روزی کے ذریعے اور ٹھکانے سے محروم ہے۔

ابو خالد حسرت کے ساتھ کہتے ہیں "میری روزی گئی، گھر تباہ ہو گیا، بچے آسمان تلے آ گئے، یہ لوگ ابھی تک ہمیں صبر کا کہتے ہیں، مگر یہ خود امان سے رہ رہے ہیں اور ان کے بچے بم باری کی زد میں نہیں ہیں"۔

عموما غزہ کی پٹی میں ہونے والے مظاہرے فلسطینی گروپوں کی کال پر کیے جاتے ہیں، تاہم اس بار یہ عوام کے اندر سے سامنے آئے ہیں۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ حماس اور اس کے غزہ کی پٹی کے انتظام کے حوالے سے عوامی مزاج میں تبدیلی آ رہی ہے۔

مبصرین کے نزدیک یہ احتجاج حماس کے لیے غیر معمولی چیلنج کی صورت اختیار کر سکتا ہے جب کہ تنظیم کسی بھی مخالف آواز کو ابھرنے کا موقع نہیں دیتی۔ فلسطینی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس کو اس بڑھتے ہوئے عوامی غیض و غضب پر توجہ دینا ہو گی۔ عوام اب مزید تحمل سے قاصر ہیں لہذا ان کی آواز کو نظر انداز کرنے سے آئندہ عرصے میں معاملات تاریک سرنگ میں چلے جائیں گے۔

جنوری میں فائر بندی کے نافذ العمل ہونے کے بعد لاکھوں فلسطینی غزہ کی پٹی کے شمال میں اپنے تباہ شدہ گھروں کو واپس لوٹ آئے۔ یہ آبادی بم باری سے بچنے کے لیے غزہ کی پٹی کے جنوب کی سمت فرار ہو گئے تھے۔ اب تک اس جنگ کے نتیجے میں 50 ہزار سے زیادہ فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

رواں ماہ 18 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے حملوں کے دوبارہ آغاز کے نتیجے میں دو ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی ٹوٹ گئی۔ فائر بندی کے عرصے میں حماس نے اپنے پاس قید 250 یرغمالیوں میں سے متعدد کو اسرائیل کے حوالے کر دیا۔ یہ افراد 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے دوران میں حماس نے قیدی بنا لیے تھے۔ اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حملے میں 1200 سے زیادہ افراد مارے گئے۔
فلسطینی وزارت صحت کے ذمے داران کے مطابق 18 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 700 کے قریب فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

حماس تنظیم نے 2007 میں انتخابات جیتنے کے بعد غزہ کی پٹی کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ انتخابات میں فلسطینی قومی تحریک (فتح) کو صدر محمود عباس کی قیادت میں شکست ہوئی۔ اس وقت سے حماس غزہ پر حکمرانی کر رہی ہے اور وہاں اپوزیشن کے لیے بہت کم جگہ باقی ہے۔ بعض فلسطینیوں کو خوف ہے کہ اگر انھوں نے کھل کر حماس کے خلف بات کی تو انھیں انتقامی کارروائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں