حماس تنظیم کو سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے پر رضامند ہو گئی ہے:ذرائع
حماس کے ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا ہے کہ تحریک نے ایک سیاسی جماعت میں تبدیل ہونے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور اس کے بعض رہنماؤں کے غزہ کی پٹی چھوڑنے پر کوئی اعتراض ظاہر کیا ہے۔
حماس کے ذرائع نے اشارہ دیا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی پر رضامندی سے انکار اور غزہ کی پٹی سے انخلاء ہی مذاکرات کے خاتمے کا سبب بنے۔
اس سے قبل پیر کو حماس کے عہدیدار طاہر النونو نے کہا تھا کہ حماس غزہ کی پٹی سے جنگ بندی اور اسرائیلی انخلاء کے بدلے تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔
غزہ کی پٹی میں حماس کے سربراہ خلیل الحیہ کی سربراہی میں تحریک کے مذاکراتی وفد نے اتوار کو قاہرہ میں قطری اور مصری حکام سے کئی ملاقاتیں کیں۔ حماس اور جنگ بندی کے مذاکرات میں ثالثی کرنے والے دونوں ممالک بحران کے خاتمے اور جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے حماس اور اسرائیل کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو نے اے ایف پی کو بتایاکہ "ہم ایک پیچیدہ تبادلے کے معاہدے، جنگ کے خاتمے، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلاء اور امداد کے داخلے کے بدلے تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں"۔
النونو نے اسرائیل پر معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ "مسئلہ قیدیوں کی تعداد کا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ قابض اسرائیل اپنے وعدوں سے انحراف کر رہا ہے۔ وہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹ ہے اور جنگ جاری رکھے ہوئے ہے"۔
النونو نے زور دے کر کہا کہ حماس نے "ثالثوں کو معاہدے پر عمل درآمد کے لیے قابض ریاست کو مجبور کرنے کے لیے ضمانت فراہم کرنے پر زور دیا"۔
انہوں نے کہاکہ "حماس نے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے مذاکرات میں پیش کیے گئے خیالات کا مثبت اور بڑی لچک کے ساتھ جواب دیا"۔
حماس رہ نما نے مزید کہا کہ "قابض اسرائیل مستقل جنگ بندی اور غزہ کی پٹی سے مکمل اسرائیلی انخلاء سے متعلق دوسرے مرحلے کے حل طلب مسائل کی طرف بڑھے بغیر اپنے قیدیوں کو رہا کرنا چاہتا ہے"۔
ایک باخبر ذریعے نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ حماس کے وفد نے "قاہرہ میں مصری اور قطری حکام کے ساتھ اپنی ملاقاتیں کسی حقیقی پیش رفت کے بغیر ختم کر دیں"۔
اسرائیلی نیوز ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ نے پیر کو اطلاع دی ہے کہ حماس کو ایک نئی تجویز پیش کی گئی ہے۔ معاہدے کے تحت تحریک 10 زندہ قیدیوں کو امریکی ضمانت کے بدلے رہا کرے جس کے بعد اسرائیل جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے بات چیت میں داخل ہوگا۔
اس تناظر میں رائیٹرز کے حوالے سے مصری اور فلسطینی ذرائع نے غزہ مذاکرات میں کسی پیش رفت کی تردید کی۔ ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا کہ حماس نے تازہ ترین تجویز کا جواب دینے کے لیے آخری تاریخ کی درخواست کی ہے۔حماس کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے۔
دریں اثنا ایک مصری ذریعے نے رائیٹرز کو بتایا کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ممکنہ جنگ بندی کے معاہدے کے لیے بین الاقوامی ضمانتوں کی درخواست کی ہے۔
جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ 19 جنوری کو شروع ہوا اور اس میں قیدیوں کے تبادلے کے کئی دور شامل تھے لیکن یہ معاہدہ دو ماہ بعد ہی ختم ہو گیا۔
ایک نئی جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے وساطت کاروں کی کوششیں حماس کے ہاں قیدیوں کی رہائی، مستقل جنگ بندی اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلاء پر اختلاف کی وجہ سے ناکام ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب النونو نے کہا کہ "مزاحمت کے ہتھیار سرخ لکیر ہیں اور وہ ان پر مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "مزاحمت کے ہتھیاروں کی بقا کا تعلق قابض اسرائیل کی موجودگی سے ہے"۔