انتشار أمني في محيط جرمانا (أرشيفية- فرانس برس)
ہم سب خسارے میں ہیں: شام کے مفتی اعظم کا بغاوت سے متعلق انتباہ
دمشق کے قریب صحنایا کے علاقے میں حکومت سے وابستہ بندوق برداروں اور دروز برادری کے افراد کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 22 افراد کی ہلاکت کے بعد شام کے مفتی اعظم اسامہ الرفاعی نے بدھ کو بغاوت کے خلاف خبردار کیا ہے۔
اسامہ الرفاعی نے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر نشر کی گئی ایک تقریر میں کہا شامی بھائیو، فتنہ سے ہوشیار رہیں، کیونکہ فتنہ کا آغاز معلوم ہے لیکن انجام معلووم نہیں ہوتا۔ اگر ہمارے ملک میں جھگڑا شروع ہو جاتا ہے، تو ہم سب، ہماری تمام نسلیں، ہمارے تمام مذاہب، ہمارے تمام فرقے ہم سب ہارے ہوئے ہیں۔
یہ بیان اسرائیلی فوج کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ چیف آف سٹاف ایال زامیر نے اسے حکم دیا ہے کہ اگر دروز کے خلاف تشدد جاری رہتا ہے تو شامی حکومت کے اہداف پر حملہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
فوج نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ زامیر نے اسرائیلی فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ شامی حکومت کے اہداف کے خلاف حملوں کے لیے تیار رہیں اگر دروز برادری کے خلاف تشدد جاری رہتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ شام میں تمام امکانات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ فوج کا یہ بیان نیتن یاہو کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد آیا ہے کہ اس نے شامی حکام کو ایک مضبوط پیغام بھیجنے کے لیے دمشق کے دیہی علاقوں میں ایک مسلح گروپ کو نشانہ بنایا ہے۔
صحنایا اور جرمانا میں کشیدگی
شامی حکومت کے نمائندوں اور جرمانا میں دروز کمیونٹی نے منگل کو ایک معاہدہ کیا جس میں یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ واقعات میں ملوث افراد کا احتساب کیا جائے اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کو روکا جائے۔ حکام نے قانون کے مطابق ملوث افراد کا تعاقب کرنے اور ان کا احتساب کرنے، مکینوں کی حفاظت اور کمیونٹی کے امن کو برقرار رکھنے کا عہد کیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
تاہم بدھ کی صبح اشرفیہ صحنایا کے علاقے میں بندوق برداروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے ایک گروپ کے درمیان محدود جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ بعد میں وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ اس نے صحنایا شہر کے تمام حصوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔