شام کے عبوری وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے نیویارک میں اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دمشق تنازعات کو روکنے کے لیے عبوری انصاف کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہاکہ"مستحکم شام ہر سب کے مفادات میں ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر وزارتی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ ان کے ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والے حملے شام کے استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ"دمشق ایسا فریق نہیں ہو گا جو اسرائیل سمیت خطے میں کسی بھی ملک کے استحکام میں رکاوٹ بنے"۔
وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جانب سے شام کے بارے میں بین الاقوامی غیر جانبدارانہ میکانزم کی رپورٹ کا بھی خیر مقدم کیا۔
اسعد الشیبیانی نے کہا کہ"پابندیاں مستقبل میں ہونے والے تنازعات کو روکنے کی ہماری صلاحیت کو کمزور کرتی ہیں۔ مسلسل پابندیاں نئی حکومت کے کام میں رکاوٹ ہیں‘‘۔
الشیبانی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کی جانب سے پابندیاں ہٹانے کی درخواست کی حمایت کرے۔
اسعد الشیبانی اس وقت نیویارک کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے گذشتہ جمعہ کو اپنے ملک کے حوالے سے سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے گذشتہ چند دنوں میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی حکام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں جن میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فلومن یانگ اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی شامل ہیں۔
الشیبانی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے اپنے ملک کا نیا پرچم بلند کیا۔ یہ ایک علامتی اقدام تھا جس کا مقصد بین الاقوامی اداروں میں شام کے کردار کو مضبوط بنانا ہے۔
تین ستاروں والا جھنڈا پہلے حزب اختلاف کی طرف سے بشار الاسد کی حکومت کے سرکاری نشان کے طور پر استعمال ہونے والے دو ستاروں والے پرچم کی جگہ استعمال کیا جاتا تھا۔