بدھ کی شام تل ابیب میں واقع "پرزنرز اسکوائر" میں لوگوں نے ایک مارچ میں شرکت کی، جو حماس کے ہاتھوں اسرائیلیوں کو غزہ میں قیدی بنائے جانے کے 600 روز مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا گیا، شرکاء نے قیدیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا (ایسوسی ایٹڈ پریس)
اسرائیلی اپوزیشن کا ویٹکوف کا نیا منصوبہ فوری طور پر قبول کر لینے پر زور
بن گوئر نے غزہ میں قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے کے لیے اپنی مخالفت باور کرائی ہے، اور ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ اگر ان کی "سرخ لکیر" عبور کی گئی تو وہ مستعفی ہو جائیں گے
بیت المقدس میں اسرائیلی حزبِ اختلاف کے رہنما یائر لیپڈ نے کہا ہے کہ تل ابیب کو امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کی پیش کردہ منصوبہ بندی "فوری اور علانیہ طور پر" قبول کر لینا چاہیے۔ اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" نے آج جمعرات کے روز لیپڈ کا یہ بیان شائع کیا ہے کہ "اسرائیل کو چاہیے کہ وہ امریکی ثالث اسٹیو ویٹکوف کی جانب سے آج صبح پیش کی گئی منصوبہ بندی کو علانیہ اور فوری قبول کرے"۔
لیپڈ نے مزید کہا "میں (اسرائیلی وزیراعظم بنیامین) نیتن یاہو کو یاد دلاتا ہوں کہ میں اس منصوبے کو قبول کرنے کی حمایت کرتا ہوں، خواہ (وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گوئر) اور (وزیر خزانہ بَتسلئیل سموٹرچ) اسے ناکام بنانے کی کوشش کریں‘‘۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق اسٹیو ویٹکوف نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی نئی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت 10 قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ اس منصوبے کے مسودے کے مطابق قیدیوں کی رہائی دو مرحلوں میں ایک ہفتے کے دوران کی جائے گی۔ نیز، حماس کو ان 18 قیدیوں کی لاشیں حوالے کرنی ہوں گی جنھیں وہ اب بھی غزہ میں رکھے ہوئے ہے، اس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
اسی دوران، ایتمار بن گوئر نے آج ایک بار پھر حکومت سے استعفے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی "سرخ لکیر" کو عبور کیا گیا تو وہ اپنا فیصلہ خود کریں گے۔ ان کے بقول "نیتن یاہو اس بات کو بخوبی جانتے ہیں"۔
بن گوئر نے ایک اسرائیلی ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے کسی بھی معاہدے کی مخالفت کا اعادہ کیا، اور ساتھ ہی غزہ میں کسی قسم کی انسانی امداد کے داخلے کی بھی مخالفت کی۔ انھوں نے کہا "میں وزیر اعظم سے کسی دھمکی یا حکومت گرانے کے حوالے سے بات نہیں کرتا، لیکن عوام جانتے ہیں کہ اگر میری سرخ لکیر عبور کی گئی (جو انھوں نے واضح نہیں کی)، تو میں دوسروں کی طرح نہیں ہوں، جو صرف دھمکیاں دیتے ہیں، بلکہ جو چاہوں گا وہی کروں گا"۔
انھوں نے مزید کہا "میں واحد شخص ہوں جو حکومت سے مستعفی ہو چکا ہے، صرف دھمکی نہیں دی، اور وزیر اعظم کو معلوم ہے کہ میری سرخ لکیر کیا ہے اور کب وہ اسے عبور کرتے ہیں"۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
بن گوئر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اسرائیلی ٹی وی "چینل 12" نے بھی آج بتایا ہے کہ اسٹیو ویٹکوف نے گزشتہ چند گھنٹوں میں اسرائیل اور حماس کے سامنے غزہ میں جنگ بندی کے ایک نئے معاہدے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
بن گوئر نے قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا "اس میں کوئی زیادہ سوالات نہیں، معاملہ بالکل واضح ہے، جزوی معاہدہ غلط ہے، اور میرا موقف ان معاہدوں کے بارے میں بالکل معروف ہے"۔
انھوں نے مزید کہا "ہمیں جارحیت جاری رکھنی چاہیے، ہم انھیں (حماس کو) جھکنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور ان سے آکسیجن بھی چھین سکتے ہیں"۔ بن گوئر نے کہا "میں ان اغوا شدگان کو اتنا ہی واپس لانا چاہتا ہوں جتنا آپ اپنے گھروں میں بیٹھے ان کو واپس چاہتے ہیں، لیکن اس طریقے سے ہم آدھے کو واپس لاتے ہیں اور باقی آدھوں کی رہائی کو مؤخر کر دیتے ہیں، اور اس مؤخر کرنے کا مطلب ہے کہ ہم سفید جھنڈا لہرا رہے ہیں"۔
وزیر برائے قومی سلامتی نے ایک بار پھر غزہ میں کسی بھی قسم کی انسانی امداد کے داخلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا "میں کابینہ کا رکن ہوں، اور میرے علم میں نہیں کہ (امریکی صدر ڈونلڈ) ٹرمپ ہمیں اس پر مجبور کر رہے ہیں"۔