امریکی ایلچی کی تجویز میں غزہ میں 60 روز کی فائر بندی شامل ہے : اسرائیلی میڈیا

امریکی ایلچی کی تجویز میں غزہ کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے انخلاء اور امداد کی تقسیم اقوام متحدہ کے ذریعے کرنے کی شق شامل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی ٹی وی "چینل 12" نے آج جمعرات کے روز بتایا کہ امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے پیش کردہ تجویز میں حماس کے قبضے میں موجود 9 زندہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور 18 لاشوں کی دو مرحلوں میں واپسی شامل ہے، جو ایک ہفتے کے اندر مکمل کی جائے گی۔ اس کے بدلے غزہ میں 60 دن کی جنگ بندی کی جائے گی تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ تاہم یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو جنگ دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔

مذکورہ چینل کے مطابق اس تجویز میں اسرائیل کی طرف سے غزہ کے مقبوضہ علاقوں سے انخلاء بھی شامل ہے۔ مزید یہ کہ امداد کی تقسیم اقوام متحدہ کے ذریعے کی جائے گی، نہ کہ کسی امریکی کمپنی کے توسط سے۔

اس سے قبل امریکی ذرائع نے کہا تھا کہ غزہ کے حوالے سے ایک معاہدے کا اعلان آئندہ چند دنوں میں ممکن ہے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وِٹکوف کی جانب سے پیش کردہ اس دستاویز کو قبول کریں جس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہے۔

اس سے قبل امریکی ایلچی وِٹکوف نے غزہ میں عارضی جنگ بندی کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جنگ بندی کے لیے شرائط کا ایک نیا مسودہ بھیجنے والے ہیں، جسے امید ہے کہ آج ہی متعلقہ فریقین کو پیش کیا جائے گا۔

امریکی صدر کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی نے غزہ میں جنگ بندی تک پہنچنے پر خوش امیدی ظاہر کی اور تمام فریقین سے امریکی تجویز قبول کرنے کی اپیل کی۔

ادھر حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی ایلچی وِٹکوف کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر پہنچ چکی ہے جو مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء کی ضمانت دیتا ہے۔

حماس کے مطابق اس معاہدے میں 10 اسرائیلی قیدیوں اور کچھ لاشوں کی واپسی شامل ہے، جس کے بدلے میں متفقہ تعداد میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، اور یہ سب کچھ ضامن فریقوں کی نگرانی میں ہو گا۔ حماس نے کہا کہ وہ اس معاہدے پر حتمی جواب کا انتظار کر رہی ہے۔

اس کے برخلاف اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس پر حماس نے آمادگی ظاہر کی ہے۔


مصری ذرائع نے "العربیہ" اور "الحدث" کو بتایا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ حماس کے غزہ سے انخلاء کے لیے ایک باقاعدہ ٹائم فریم طے کیا جائے۔

مصری ذرائع کے مطابق اسرائیل جنگ بندی کے بعد کئی مہینے تک غزہ میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے، اور جنگ بندی کو عید الاضحی سے پہلے ممکن نہ بنانے کے لیے کئی رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں