اسرائیل نے غزہ میں کیفے پر 500 پاؤنڈ وزنی بم گرایا .... ماہرین کے نزدیک "جنگی جرم" ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں ایک کافی شاپ پر کیے گئے حملے کے اثرات تا حال جاری ہیں۔

"جنگی جرم"

برطانیہ کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے پیر کے روز غزہ کے ساحلی علاقے میں واقع ایک مصروف کیفے پر حملے میں 500 پاؤنڈ (تقریباً 230 کلوگرام) وزنی بم استعمال کیا، جو ایک انتہائی طاقت ور ہتھیار ہے۔ یہ بم شدید دھماکہ خیز لہریں پیدا کرتا ہے اور وسیع رقبے میں ٹکڑے بکھیرتا ہے۔

اخبار "گارڈین" کے مطابق، مختلف شواہد نے اس روایت کی تصدیق کی ہے۔

رپورٹ میں بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایسے گولہ بارود کا استعمال ... جب کہ وہاں بڑی تعداد میں عام شہری موجود ہوں، جن میں بچے، عورتیں اور بزرگ شامل تھے ... تقریباً یقینی طور پر غیر قانونی ہے، اور یہ اقدام "جنگی جرم" کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

یہ نتیجہ ان اسلحہ ماہرین نے اخذ کیا جنھوں نے کیفے "الباقۃ" پر گرائے گئے بم کے ٹکڑوں کا جائزہ لیا۔

"گارڈین" نے ان کی تصویر جاری کی ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ ٹکڑے امریکی ساختہ "مارک 82" (MK-82) بم کے تھے، جس کا وزن 230 کلوگرام ہوتا ہے، اور یہ گزشتہ دہائیوں میں متعدد فضائی حملوں میں استعمال کیا گیا ہے۔

دو بم ماہرین کا کہنا تھا کہ دھماکے سے جو بڑا گڑھا بنا، وہ بھی اس بات کا اضافی ثبوت ہے کہ وہاں اس نوعیت کا بھاری اور مہلک بم استعمال کیا گیا تھا۔

دوسری طرف، اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ کیفے پر حملہ اب زیرِ جائزہ ہے، اور اس کے مطابق، حملے سے پہلے شہری نقصانات کو کم کرنے کے لیے فضائی نگرانی کے ذریعے کچھ اقدامات کیے گئے تھے۔

درجنوں شہداء، جن میں بچے بھی شامل

یاد رہے کہ غزہ کے حکام نے تصدیق کی تھی کہ اس کیفے پر حملے میں 24 سے 36 فلسطینی شہید ہوئے، جب کہ درجنوں دیگر زخمی بھی ہوئے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

شہداء میں ایک معروف فلم ساز، ایک 35 سالہ خاتون خانہ، اور ایک چار سالہ بچہ شامل تھے۔

زخمیوں میں ایک 14 سالہ لڑکا اور ایک 12 سالہ بچی بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی قانون، جو جنیوا کنونشنوں پر مبنی ہے، کے مطابق کسی بھی فوج کو ایسے حملے کرنے کی اجازت نہیں جن میں شہریوں کی جانوں کا نقصان عسکری فائدے کے مقابلے میں حد سے زیادہ اور غیر متناسب ہو۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں