گزشتہ مہینوں کی سب سے بڑی جارحیت .... اسرائیلی فوج غزہ میں کارروائیاں تیز کر رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

بیت المقدس میں آج جمعرات کے روز ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدے دار نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر رہی ہے، جو گزشتہ کئی مہینوں کے بعد سب سے بڑی فوجی جارحیت ہو گی۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق، اس عہدے دار نے کہا کہ عسکری دباؤ میں یہ اضافہ ایک منصوبے کا حصہ ہے جو جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے کسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ باقی رہ جانے والے فوجی اہداف میں بیت حانون اور غزہ شہر پر کنٹرول حاصل کرنا، اور حماس کے دو بریگیڈز کو ختم کرنا شامل ہے۔

اسرائیلی عہدے دار نے یہ بھی کہا "عسکری کارروائی آئندہ عرصے میں بتدریج بڑھے گی"، اور یہ کہ فوج غزہ کے مخصوص علاقوں میں حملوں میں شدت لانے کا ارادہ رکھتی ہے، یہاں تک کہ متوقع معاہدے کا با ضابطہ اعلان ہو جائے۔

غزہ میں "Rising Lion" آپریشن

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ فوج غزہ میں لڑائی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں اپنی جنگ کے اس نئے مرحلے کو "Rising Lion" یعنی "ابھرتا ہوا شیر" کا نام دیا ہے، جو ایران میں اس کی بعض فوجی کارروائیوں کے نام پر رکھا گیا ہے۔

بم باری کا سلسلہ جاری ... شہداء کی تعداد میں اضافہ

غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملے مسلسل جاری ہیں۔ طبی ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کی صبح سے اب تک اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں غزہ کے مختلف علاقوں میں 63 فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں۔ یہ بات فلسطینی خبر رساں ایجنسی "وفا" نے بتائی۔

ان ذرائع کے مطابق، شہداء میں 28 افراد وہ تھے جو وسطی اور جنوبی غزہ میں امداد کے انتظار میں موجود تھے۔

اسکول میں بے گھر افراد کے لیے قائم پناہ گاہ پر بم باری ... اسرائیل کی تحقیقات

فسلطینی شہری دفاع نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ مغربی غزہ کے الرمال محلے میں ایک اسکول پر اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں 12 افراد شہید ہو گئے، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی۔

شہری دفاع کے ایک عہدے دار محمد المغیر نے بتایا کہ یہ بم باری مصطفی حافظ اسکول پر کی گئی، جو کہ بے گھر افراد کے لیے قائم ایک پناہ گاہ تھی۔

اسرائیلی فوج نے کہا "ہم غزہ میں شہری دفاع کی ان رپورٹوں کی چھان بین کرنے کی کوشش کریں گے، جن میں اسکول پر بم باری کی بات کی گئی ہے۔"

"محفوظ علاقے" میں 111 جاں بحق

بدھ کے روز اسرائیلی بم باری میں غزہ کے مختلف علاقوں میں 111 فلسطینی جاں بحق ہوئے، یہ بات غزہ کے اسپتالوں کے طبی ذرائع نے بتائی۔

غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے خبر رساں ادارے فرانس پریس کو بتایا کہ ان حملوں نے خاص طور پر غزہ شہر کے شمال میں واقع اپارٹمنٹوں، گھروں، خیموں، اسکولوں، اور ان خیموں کو نشانہ بنایا جو بے گھر افراد کے لیے المواصی کے علاقے میں لگائے گئے تھے۔

یہ وہی علاقہ ہے جسے اسرائیل نے خان یونس کے جنوب میں واقع "محفوظ علاقہ" قرار دے کر فلسطینیوں کو وہاں منتقل ہونے کا حکم دیا تھا، تاہم یہ بار بار بم باری کا نشانہ بن رہا ہے۔

نئی جنگ بندی کی شرائط

یہ تمام زمینی پیش رفت اُس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کیا۔

ٹرمپ نے کے مطابق اسرائیل نے حماس کے ساتھ 60 دن کے لیے نئی جنگ بندی کی شرائط تسلیم کر لی ہیں، اور امریکا اس مدت کے دوران دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر 20 ماہ سے جاری غزہ کی جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔

ٹرمپ نے حماس کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے اس پیش کش کو قبول نہ کیا تو اس کے "مواقع کم ہوتے جائیں گے"۔

یہ جنگ گزشتہ 21 مہینوں سے جاری ہے، جس میں اب تک 57012 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ یہ اعداد و شمار غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ہیں، جسے اقوام متحدہ معتبر سمجھتی ہے۔

یہ جنگ غزہ کے پورے محصور علاقے کو کھنڈر میں بدل چکی ہے اور وہاں کے 24 لاکھ باسی ایک شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جب کہ اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں کو مسلسل وسیع کر رہا ہے ... اور حملوں میں مزید شدت آ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں