غزہ معاہدے میں مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شامل ہیں : فلسطینی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فلسطینی ذرائع نے جمعرات کے روز بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضمانت کے تحت پیش کی گئی امریکی تجویز میں، غزہ میں 60 دن کے لیے جنگ بندی شامل ہے۔

ڈیل ...10 زندہ اسرائیلی یرغمالی اور 18 لاشیں

ذرائع نے "العربیہ/الحدث" کو بتایا کہ ممکنہ معاہدے کے پہلے دن مستقل جنگ بندی پر مذاکرات کا آغاز ہو گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز میں 10 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور 18 لاشوں کی واپسی شامل ہے۔

اس سے قبل ایک اسرائیلی عہدے دار نے تصدیق کی تھی کہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ تیار ہو چکا ہے، جس کے تحت 10 زندہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور 18 لاشوں کی واپسی کے بدلے اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

ذرائع کے مطابق، اس نئی تجویز میں سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ اس میں پانچ مراحل پر مشتمل 60 دنوں کا نظام الاوقات شامل ہے، جب کہ گزشتہ تجویز میں صرف سات دنوں کے اندر زندہ قیدیوں کی رہائی کی بات کی گئی تھی۔

عہدے دار نے وضاحت کی کہ اسرائیل نے اصولی طور پر اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ غزہ کے اندر ایک متعین علاقے تک پیچھے ہٹ جائے گا، جبکہ صرف موراج راہ داری میں محدود فوجی موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔ یہ اقدام معاہدے پر عمل درآمد کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے اندر اس معاہدے کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے، حتیٰ کہ بن گوئیر اور سموٹرچ جیسے وزراء کی مخالفت کے باوجود، جو اگرچہ معترض ہیں لیکن اتحاد کو گرانے کی دھمکی نہیں دے رہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آ رہی ہے جب امریکی حمایت سے مغربی کنارے میں جزوی خود مختاری نافذ کرنے کے امکانات موجود ہیں۔

عہدے دار نے یہ بھی اشارہ دیا کہ فوجی راستہ ابھی ترک نہیں کیا گیا، اور اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو فوج ایک بڑی کارروائی کے لیے تیار ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے حماس کو انتباہ

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ اسرائیل نے حماس کے ساتھ 60 دن کے لیے ایک نئے جنگ بندی معاہدے کی شرائط قبول کر لی ہیں، اور اس دوران امریکا دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر 20 ماہ سے جاری غزہ کی جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔

ٹرمپ نے حماس کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو اس کے "مواقع کم ہوتے جائیں گے"۔

یہ کوششیں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو چند دن بعد واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں ان کی ٹرمپ سے ملاقات طے ہے۔

جنوری میں طے پانے والے گزشتہ جنگ بندی معاہدے میں تین مراحل شامل تھے، لیکن دونوں فریق صرف پہلے مرحلے تک ہی پہنچ سکے۔
اس مرحلے میں حماس کے زیر حراست چند یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا، اور انسانی امداد غزہ پہنچنے میں کامیاب رہی تھی۔ جب یہ مرحلہ یکم مارچ کو مکمل ہوا تو اسرائیل نے اس میں توسیع کی خواہش ظاہر کی، جبکہ حماس نے معاہدے کے مطابق دوسرے مرحلے میں جانے کا مطالبہ کیا۔

دوسرے مرحلے میں باقی زندہ یرغمالیوں کی رہائی، مزید فلسطینی قیدیوں کی آزادی، مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا شامل تھا۔

تاہم یہ مرحلہ ہمیشہ سب سے دشوار رہا، کیونکہ اس میں اسرائیل کو اپنے دو بنیادی جنگی اہداف یعنی یرغمالیوں کی بازیابی اور حماس کا خاتمہ ... ان کے درمیان انتخاب کرنا تھا۔

رواں سال18 مارچ کو اسرائیل نے نئی فضائی بم باری کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں