ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن 25 جون 2025 کو نیدرلینڈ کے شہر ہیگ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں ایک پریس کانفرنس میں شریک ہیں۔ (رائٹرز)
غزہ کے امدادی مراکز پر فائرنگ، ٹرمپ سے مداخلت کرنے کو کہا ہے: ایردوآن
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے غزہ کے امدادی مراکز پر فائرنگ روکنے کے لیے مداخلت کرنے کو کہا ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے مطابق 500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایردوآن نے کہا کہ جب وہ جون کے آخر میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں ٹرمپ سے ملے تھے تو انہوں نے ان سے کہا تھا، آپ آگے بڑھیں اور خونریزی روکیں۔
"میں نے ان سے غزہ کے عمل میں مداخلت کرنے کو اور یہ بھی کہا، 'آپ وہ ہیں جو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ مل کر اس عمل کو بہترین طریقے سے سنبھالیں گے۔' ایسے لوگ ہیں جو خاص طور پر کھانا حاصل کرنے کی قطاروں میں ہلاک ہو رہے ہیں۔
"آپ کو یہاں مداخلت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ لوگ ہلاک نہ ہوں"، انہوں نے کہا۔ ان کے ان تبصروں کی اطلاع ہفتہ کو انادولو سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دی۔
اسرائیل کی فوج نے فلسطینی ہلاکتوں کے واقعات کا الزام حماس پر عائد کیا ہے اور اس ہفتے جی ایچ ایف کے چیئرمین جانی مور نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کے چار تقسیمی مقامات پر یا ان کے قریب کوئی فلسطینی ہلاک نہیں ہوا ہے۔
ایردوآن کے جاسوسی سربراہ اور وزیرِ خارجہ کی حماس کے سینئر حکام سے الگ الگ ملاقات کے چند روز بعد انہوں نے کہا، "ایران-اسرائیل جنگ بندی نے غزہ کے لیے بھی ایک دروازہ کھول دیا ہے۔ حماس نے بارہا اس سلسلے میں اپنی نیک نیتی کا مظاہرہ کیا ہے۔"
ضمانتوں کے مسئلے کو "خاص طور پر اہم" قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا، غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی تازہ ترین تجویز کی کامیابی کو یقینی بنانے میں اسرائیل پر امریکی دباؤ "فیصلہ کن" ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا، "جنگ بندی کی صورت میں بین الاقوامی برادری کو تعمیرِ نو کے منصوبوں میں تیزی سے سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر مستقل جنگ بندی ہو سکتی ہے تو خطے میں مستقل امن کا راستہ کھل سکتا ہے۔"