امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ جی ایچ ایف نے کہا کہ ہفتے کے روز جنوبی غزہ میں اس کے ایک امدادی مرکز پر "حملے" میں امریکی عملے کے دو ارکان زخمی ہو گئے۔
تنظیم نے کہا، "آج صبح خان یونس میں ایس ڈی ایس-تھری میں خوراک کی تقسیم کی سرگرمیوں کے دوران دو امریکی امدادی کارکنان ہدفی دہشت گردانہ حملے میں زخمی ہو گئے۔ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ "دو حملہ آوروں نے کیا جنہوں نے امریکیوں پر دو دستی بم پھینکے۔"
تنظیم نے مزید کہا، "ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حملہ دو حملہ آوروں نے کیا جنہوں نے امریکیوں پر دو دستی بم پھینکے۔ یہ بصورتِ دیگر ایک کامیاب تقسیم کے اختتام پر ہوا جس میں غزہ کے ہزاروں باشندوں کو بحفاظت کھانا فراہم کیا گیا۔"
فاؤنڈیشن نے کہا، "جی ایچ ایف نے حماس کی طرف سے بار بار تشویش ناک خطرات سے خبردار کیا ہے جس میں امریکی اہلکاروں، فلسطینی امدادی کارکنان اور خوراک کے لیے ہماری مراکز پر انحصار کرنے والے شہریوں کو نشانہ بنانے کے واضح منصوبے شامل ہیں۔ آج کا حملہ افسوسناک طور پر ان انتباہات کی تصدیق کرتا ہے۔"
-
غزہ میں نیا جنگ بندی معاہدہ تیار، صدر ٹرمپ خود اعلان کریں گے
اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی تجاویز پر مبنی 13 نکاتی فارمولہ سامنے آ گیا
مشرق وسطی -
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 20 افراد کی اموات: شہری دفاع
غزہ کی شہری دفاع ایجنسی نے کہا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں ہفتے کے روز 20 ...
مشرق وسطی -
سابق میزبان گیری لائنکر کی غزہ کی دستاویزی فلم نہ دکھانے پر بی بی سی پر تنقید
بی بی سی پر اسرائیل نوازی کا الزام
بين الاقوامى