جنوبی ترکیہ میں اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن: دو میئرز گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترکیہ کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ جنوبی ترکیہ کے دو بڑے شہروں کے میئرز کو ہفتے کے روز گرفتار کر لیا گیا۔ مارچ میں استنبول کے میئر کو قید کیے جانے کے بعد سے حزبِ اختلاف کی ان شخصیات کی فہرست میں اضافہ ہوا ہے جنہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق آدیامان کے میئر عبدالرحمٰن تتدرے اور اڈانا میونسپلٹی کے سربراہ زیدان کرالار کو صبح سویرے چھاپوں میں حراست میں لیا گیا۔ دونوں مرکزی اپوزیشن ریپبلکن پیپلز پارٹی یا سی ایچ پی کے رکن ہیں۔ کرالار کو استنبول میں اور تتدرے کو دارالحکومت انقرہ سے گرفتار کیا گیا جہاں ان کا ایک گھر ہے۔

تتدرے نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ انہیں استنبول لے جایا جا رہا تھا۔ استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کا دفتر منظم جرائم، رشوت خوری اور بولی میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کر رہا ہے جس کے لیے مجموعی طور پر 10 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

پراسیکیوٹرز نے ان کے خلاف الزامات کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں لیکن یہ کارروائی حالیہ مہینوں میں سی ایچ پی کے ماتحت بلدیات کے متعدد اہلکاروں کی گرفتاریوں کے بعد ہوئی ہے۔ استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کو چار ماہ قبل بدعنوانی کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا جنہیں بڑے پیمانے پر صدر رجب طیب ایردوآن کے 22 سالہ دورِ اقتدار کا اہم چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

ٹینڈر میں مبینہ دھاندلی اور دھوکہ دہی کی تحقیقات کے سلسلے میں ترکی کے تیسرے بڑے شہر ازمیر کے سابق سی پی ایچ میئر اور 137 میونسپل اہلکاروں کو اس ہفتے کے شروع میں حراست میں لیا گیا تھا۔ جمعہ کے روز سابق میئر Tunc Soyer اور 59 دیگر کو زیرِ التواء مقدمے میں جیل بھیج دیا گیا جسے Soyer کے وکیل نے "واضح طور پر غیر منصفانہ، غیر قانونی اور سیاسی محرکات کی بنا پر ہونے والا فیصلہ" قرار دیا تھا۔

جمعہ کو ہی سرکاری میڈیا نے یہ اطلاع دی کہ صوبہ انطالیہ میں مانوگٹ کے سی پی ایچ کے میئر اور 34 دیگر کو مبینہ بدعنوانی کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔

سی پی ایچ کے اہلکاروں کو اس سال گرفتاریوں کے ایک سلسلے کا سامنا کرنا پڑا ہے جن کا مقصد کئی لوگوں کے نزدیک ترکی کی مرکزی اپوزیشن پارٹی کو بے اثر کرنا ہے۔ حکومت استغاثہ اور عدلیہ کے آزادانہ کام کرنے پر اصرار کرتی ہے لیکن استنبول کے امام اوغلو کی گرفتاری کے نتیجے میں ترکی میں ایک عشرے سے زیادہ عرصے میں سڑکوں پر شدید ترین احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔

قید کے بعد امام اوغلو کو باضابطہ طور پر ان کی پارٹی کے صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ ترکی کا اگلا الیکشن 2028 میں ہونا طے شدہ ہے لیکن جلد ہو سکتا ہے۔

مذکورہ کریک ڈاؤن مقامی انتخابات میں سی ایچ پی کی نمایاں کامیابیوں کے ایک سال بعد ہوا ہے۔ 2023 کے زلزلے سے بری طرح متاثر ہونے والا آدیامان ان کئی شہروں میں شامل تھا جو پہلے ایردوآن کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں