درعا سمیت جنوبی شام کو غیر مسلح کیے جانے کے مطالبے پر قائم ہیں : اسرائیلی عہدے دار

اسرائیلی عہدے دار کے مطابق شامی فوج کو چند ہفتوں کی مہلت دی ہے کہ وہ درعا سے اپنی فورسز اور اسلحہ ہٹا لے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اسرائیلی عہدے دار نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے ساتھ سرحد پر اپنی افواج کو کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے پیشِ نظر مضبوط کر رہا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس عہدے دار نے آج جمعرات کے روز بتایا کہ اسرائیلی فوج نے شامی فوج کو چند ہفتوں کی مہلت دی ہے کہ وہ درعا صوبے سے اپنی فورسز اور اسلحہ ہٹا لے۔

عہدے دار کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے مطالبے پر قائم ہے کہ جنوبی شام کو غیر مسلح کیا جائے، اور اس میں درعا کا علاقہ بھی شامل ہے۔

شدید اسرائیلی فضائی حملے

ادھر شامی حکام نے اپنی فورسز کو سویداء سے واپس بلا لیا ہے۔ صدر احمد الشرع نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ "وسیع جنگ" سے گریز کرنا چاہتے ہیں، جس نے اپنے فضائی حملوں میں شدت لانے کی دھمکی دی ہے۔

صدر الشرع کا یہ بیان ان شدید اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے جو دمشق میں جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹرز کی عمارت پر کیے گئے، جن میں عمارت کا ایک حصہ تباہ ہو گیا اور شامی حکام کے مطابق تین افراد جاں بحق ہوئے۔

اسرائیل نے اس کے علاوہ دمشق کے صدارتی محل کے اطراف، دارالحکومت کے جنوب اور سویداء میں متعدد فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنایا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں