روسی وزارت خارجہ نے آج جمعرات کو شام پر اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ملک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ شام میں تشدد کی نئی لہر انتہائی تشویشناک ہے۔ روسی فریق نے شام میں اسرائیل کے طاقت کے بے جا استعمال کی بارہا مذمت کی ہے۔ یہ حملے جو ملک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں کی شدید مذمت کی جانی چاہیے۔
وزارت نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ اس مسئلے کا حل مکالمے اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں ہے ۔ اسرائیل نے بدھ کو دمشق پر شدید فضائی حملے کیے جس میں وزارت دفاع کے صدر دفاتر اور شامی دارالحکومت میں صدارتی محل کے قریب کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سے ایک دن قبل جنوبی سویدا صوبے میں تشدد میں اضافہ ہوا تھا۔ اسرائیلی فریق کے مطابق یہ حملے شامی حکومت کی دروز برادری کے خلاف حملوں کے جواب میں تھے اور اس بات کی تصدیق کے لیے تھے کہ اسرائیل دروز کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔
جھڑپوں کا آغاز
سویدا میں جھڑپیں 13 جولائی سے مسلح افراد اور حکومت کی حامی بدو قبائل کے درمیان جاری ہیں جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں عام شہری اور فوجی بھی شامل ہیں۔ سرکاری افواج نے شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک مہم شروع کی ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے فضائیہ کے ذریعے درعا اور دمشق میں شامی افواج کو نشانہ بنایا اور اعلان کیا کہ اس کا مقصد حکومتی افواج کو جنوب کی طرف بڑھنے سے روکنا ہے۔
جنگ بندی
شامی وزارت داخلہ نے بدھ کو اعلان کیا کہ سویدا میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس میں 14 نکات شامل ہیں جن میں سب سے اہم فوری طور پر تمام فوجی کارروائیوں کو روکنا اور نفاذ کے عمل کی نگرانی کے لیے شامی ریاست اور دروز شیوخ پر مشتمل ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دینا شامل ہے۔