ترک صدر رجب طیب ایردوآن۔ (فائل فوٹو: اے پی)
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے شام کے تنازعے میں اسرائیل سے سمجھوتہ نہ کرنے اور مضبوط مؤقف کا مظاہرہ کرنے پر اپنے شامی ہم منصب احمد الشرع کی تعریف کی اور کہا کہ الشرع نے دروز کے ساتھ مفاہمت کر کے ایک "بہت مثبت" قدم اٹھایا ہے۔
سرکاری میڈیا اور عینی شاہدین نے بتایا کہ شام کے دروز اکثریتی شہر سویدا سے سینکڑوں بدو شہریوں کو سوموار کو نکالا گیا جو امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کا ایک حصہ ہے۔ اور اس کا مقصد لڑائی کو ختم کرنا ہے جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پیر کے روز ترک میڈیا کو جاری کردہ تبصروں میں ایردوآن نے کہا کہ شام کی حکومت نے تقریباً 2500 فوجیوں کے ساتھ سویدا اور ملک کے جنوب میں کچھ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ عمان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایک دروز دھڑے کے علاوہ باقی تمام نے جنگ بندی کا احترام کرنے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے شمالی قبرص سے واپسی پر پرواز میں صحافیوں کو یہ بھی بتایا، امریکہ اب سمجھ گیا ہے کہ اسے اس مسئلے کو مزید "اپنانے" کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل اس لڑائی کو شامی سرزمین پر حملہ کرنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔