شام : سویداء کے گرد حفاظتی گھیراؤ قائم ، نقل مکانی کرنے والوں کا درعا میں استقبال
حکومتی ثالثی کے بعد سویداء سے محصور خاندانوں کا انخلا شروع
شام میں سویداء کی داخلی سیکورٹی کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل احمد دالاتی نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ شہر کے گرد حفاظتی گھیراؤ قائم کر دیا گیا ہے، تاکہ اس کا تحفظ کیا جا سکے اور لڑائی کا خاتمہ ممکن ہو۔ انھوں نے بتایا کہ وقتی طور پر بدو قبائل کے خاندانوں کی منتقلی کا آغاز کر دیا گیا ہے، تاکہ فریقین کے درمیان فائر بندی کو مستحکم کیا جا سکے۔
شامی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ بسوں کے ذریعے سویداء میں محصور لگ بھگ 1500 افراد کا انخلا شروع ہو چکا ہے، جو جنگ بندی معاہدے اور کشیدگی کے خاتمے کے تحت کیا جا رہا ہے۔
العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق، ان افراد کو پہلے سویداء کے نواحی علاقوں میں منتقل کیا جائے گا، اس کے بعد انھیں درعا صوبے لے جایا جائے گا۔ یہ عمل شامی ہلال احمر کی نگرانی میں انجام پائے گا۔ ان افراد کی واپسی ان کے گھروں کو تب ہو گی جب امن و امان مکمل بحال ہو جائے گا اور جنگ مکمل طور پر رک جائے گی.
شام کے سرکاری چینل "الاخباریہ" نے پیر کو بتایا کہ حکومت کی کوششوں سے کیے گئے مصالحتی اقدام کے نتیجے میں سویداء سے محصور خاندانوں کا انخلا شروع ہو چکا ہے۔ چینل نے مزید بتایا کہ حالیہ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے افراد کو بھی لے جانے کا عمل جاری ہے۔
بریگیڈیئر جنرل دالاتی نے اعلان کیا کہ سویداء میں موجود گروپوں کے ہاتھوں محصور بدو قبائل کے خاندانوں کی رہائی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
شامی خبر رساں ایجنسی "سانا" کے مطابق "حکومت کی جانب سے سویداء میں فریقین کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور مفاہمت کے فروغ کے لیے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں، آئندہ چند گھنٹوں میں بدو قبائل کے خاندانوں کو رہا کیا جائے گا، اور ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ اقدام ریاست کی طرف سے اپنے تمام شہریوں کے تحفظ اور قومی اتحاد کے فروغ کے عزم کا حصہ ہے۔"
دالاتی نے مزید زور دیا کہ "تمام فریقین جنگ بندی کی مکمل پابندی کریں، تاکہ ریاستی ادارے امن و استحکام کی بحالی کا عمل سنبھال سکیں۔"
ادھر شامی وزیر صحت مصعب العلی نے اتوار کے روز خبردار کیا تھا کہ اگر سویداء میں موجودہ صورت حال زیادہ دیر تک برقرار رہی تو یہ ایک "سانحے" میں بدل سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان حالیہ دنوں میں ہونے والی خونی جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
العلی نے شامی سرکاری چینل "الاخباریہ" کو بتایا کہ "امن و امان کی صورت حال تنظیموں کے کام میں رکاوٹ بن رہی ہے، اور جب کسی جگہ سے ریاستی قانون اور اختیار ختم ہو جائے، تو وہاں انارکی پھیل جاتی ہے۔" انھوں نے مزید بتایا کہ وہ سویداء کے محکمہ صحت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
شامی وزارت خارجہ نے بھی اتوار کو ایک مذمتی بیان میں کہا کہ "قانون شکن عناصر" نے ایک انسانی امدادی قافلے کو سویداء میں داخل ہونے سے روک دیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے سویداء میں مقامی مسلح گروہوں اور بدو قبائل کے درمیان جاری خون ریز جھڑپوں میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔
-
نیتن یاہو پاگل ہو گئے ہیں: ٹرمپ انتظامیہ میں شام پر بمباری کے بعد غصہ
شام میں استحکام پر امریکی خدشات، نیتن یاہو ٹرمپ انتظامیہ کے غصے والے ردعمل پر ...
مشرق وسطی -
جھڑپیں ختم کرنے کے لیے شامی حکومت کا السویدا سے بدو خاندانوں کا انخلاء شروع
شامی حکومت نے پیر کو سویدا شہر کے اندر پھنسے بدو خاندانوں کو نکالنا شروع کر دیا ...
مشرق وسطی -
شام: سویداء کا سکیورٹی حصار کرلیا گیا، درعا میں لوگوں کی واپسی شروع
حکومتی ثالثی کے بعد سویداء سے محصور خاندانوں کا انخلا شروع ہوگیا ہے: شام
مشرق وسطی