جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس کے ناصر ہسپتال میں 18 اگست 2025 کو ایک فلسطینی کی نمازِ جنازہ ادا کر رہے ہیں جو طبی ماہرین کے مطابق اتوار کے روز امداد طلب کرتے ہوئے اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ (رائٹرز)
مصر میں حماس کے وفد کو غزہ جنگ بندی کا نیا منصوبہ موصول ہوا ہے
اس میں ساٹھ روزہ جنگ بندی کی تجویز شامل ہے: فلسطینی عہدیدار
قاہرہ میں حماس کے مذاکرات کاروں کو غزہ جنگ بندی کے لیے ایک نئی تجویز موصول ہوئی ہے جبکہ اس دوران قطر کے وزیرِ اعظم بھی جنگ بندی پر زور دینے کے لیے مصر میں موجود ہیں، یہ بات ایک فلسطینی عہدیدار نے پیر کو بتائی۔
فلسطینی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ثالثین کی تازہ ترین تجویز "مستقل جنگ بندی پر مذاکرات شروع کرنے کا ایک فریم ورک معاہدہ ہے" جس میں ابتدائی 60 دن کی جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔
عہدیدار نے کہا، "حماس اپنی قیادت سے اندرونی مشاورت" کرے گی اور دوسرے فلسطینی دھڑوں کے رہنماؤں کے ساتھ متن کا جائزہ لے گی۔
حماس کے اتحادی اسلامک جہاد کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا، اس منصوبے میں "60 دنوں تک جاری رہنے والا جنگ بندی معاہدہ شامل ہے جس کے دوران 10 اسرائیلی قیدیوں اور کئی لاشوں کی باقیات کو رہا کیا جائے گا۔"
اسلامی جہاد کے ذریعے کے مطابق "بقیہ اسیران کو دوسرے مرحلے میں رہا کیا جائے گا اور بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ "جنگ اور جارحیت" کے مستقل خاتمے کے لیے "ایک وسیع تر معاہدے کی غرض سے فوری مذاکرات" ہوں گے۔
ذریعے نے مزید کہا ہے کہ مصری اور قطری ثالثین کی پیش کردہ تجویز سے "تمام دھڑے متفق ہیں"۔
مصری وزیرِ خارجہ بدر عبد العاطی نے پیر کو غزہ کے ساتھ رفح راہداری کا دورہ کرتے ہوئے کہا، "ہماری موجودہ مشترکہ کوششوں کو مستحکم کرنے کے لیے" قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آلِ ثانی دورہ کر رہے ہیں "تاکہ جلد از جلد ایک معاہدہ طے کرنے کے لیے فریقین پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے۔"
غزہ کی پٹی میں اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں اور امدادی گروپوں نے قحط سے خبردار کیا ہے۔ وہاں کے 20 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے سنگین انسانی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عبدالعاطی نے ایک معاہدہ طے کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
"زمین پر موجودہ صورتِ حال تصور سے بالاتر ہے،" انہوں نے کہا۔
فاقوں کی 'دانستہ' پالیسی
غزہ کی شہری دفاع کی ایجنسی نے کہا کہ پیر کے روز پورے علاقے میں اسرائیلی حملوں اور گولیوں سے کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس دوران اسرائیل پر غزہ میں فاقہ کشی کی "دانستہ پالیسی" نافذ کرنے کا الزام لگایا اور کہا ہے کہ وہ "فلسطینیوں کی صحت، بہبود اور معاشرتی تانے بانے کو منظم طریقے سے تباہ کر رہا ہے۔"
یاد رہے کہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی مظالم میں اب تک علاقے میں تقریباً 62,000 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔