دنیا کے سب سے بڑے اور ناروے کے خودمختار دولت فنڈ نے پیر کو کہا کہ اس نے مغربی کنارے اور غزہ سے روابط رکھنے والی چھے کمپنیوں کو اپنے پورٹ فولیو سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام اسرائیلی سرمایہ کاری کے اخلاقی جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔
دو ٹریلین امریکی ڈالر مالیت کے دولت فنڈ نے ان کمپنیوں کے نام نہیں بتائے جنہیں خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن کہا کہ ایک بار مالی انقطاع کا عمل مکمل ہو جائے تو ہر کمپنی کے حوالے سے مخصوص وجوہات کے ساتھ ناموں کو عام کر دیا جائے گا۔
ان اطلاعات کے بعد کہ فنڈ نے اسرائیلی جیٹ انجن گروپ میں سرمایہ کاری کی تھی، اس ماہ ایک فوری جائزہ لیا گیا جس کے بعد یہ اعلان سامنے آیا ہے۔
فنڈ کی ایتھکس کونسل واچ ڈاگ نے کہا کہ وہ ہر سہ ماہی میں اسرائیلی کمپنیوں کا جائزہ جاری رکھے گا۔
فنڈ سے اخراج فنڈ کے ایتھکس واچ ڈاگ کی سفارشات پر مبنی ہے۔
بتایا گیا کہ فنڈ نے کئی دوسری کمپنیوں میں بھی الگ الگ حصص فروخت کیے جو اخلاقیات کے جائزے کا حصہ نہیں تھیں۔ گذشتہ ہفتے صرف ان اسرائیلی کمپنیوں میں حصص رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جو فنڈ کے بینچ مارک انڈیکس کا حصہ ہیں۔
فنڈ نے 14 اگست تک اسرائیل میں درج 38 کمپنیوں میں 19 بلین کراؤن (1.86 بلین ڈالر) کی سرمایہ کاری کی تھی اور اس میں 30 جون سے 23 کمپنیوں کی کمی ہوئی۔
اس میں کہا گیا ہے کہ اخلاقیات پر مبنی جائزے کے بعد مزید چھے کمپنیوں سے مالی روابط ختم ہو جائیں گے۔
ناروے کی پارلیمنٹ نے جون میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سرگرمیاں رکھنے والی تمام کمپنیوں سے فنڈ منقطع کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
-
حزب اللہ کے ہتھیاروں کے حوالے سےلبنان کے اقدام کے بعد اسرائیل کو بھی مساوی قدم اٹھاناہو گا
ٹوم براک اپنے ساتھ لبنانی حکومت کے اس فیصلے کی پیروی کا معاملہ لائے ہیں کہ اسلحہ ...
مشرق وسطی -
اسرائیل غزہ کے فلسطینیوں کو دانستہ بھوکا مار رہا ہے: ایمنسٹی
اسرائیل کا ان الزامات سے مسلسل انکار
بين الاقوامى -
آسٹریلیا نے انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی سیاستدان کا ویزا منسوخ کر دیا
آسٹریلین جیوش ایسوسی ایشن نے اقدام کو یہود دشمنی قرار دیا
بين الاقوامى