ریاست کے قیام کے لیے غزہ میں عالمی افواج کی تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں: مصر

ناقابل قبول حالات غزہ پر جامع معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ ہیں: مصری وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعا طی نے کہا ہے کہ غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز تیار کرنے کے لیے حماس اور قطری ثالث کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے مصری وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ناقابل قبول حالات موجودہ وقت میں غزہ پر ایک جامع معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ سے متعلق مجوزہ تجویز کچھ ترامیم کے ساتھ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کے پیپر پر ہی مبنی ہے۔ ہم نے ایسے خیالات پیش کیے ہیں جو اگر اسرائیل کی سیاسی مرضی ہو تو کامیاب ہو سکتے ہیں۔

’’ العربیہ ‘‘ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں مصری وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مصر کو ریاست کے قیام کے سیاسی افق کے اندر رہتے ہوئے غزہ میں بین الاقوامی افواج کی تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے کہا جنگ کے بعد غزہ کا انتظام کرنے کے لیے کمیونٹی سپورٹ کمیٹی کے ارکان پر اتفاق رائے موجود ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ’’ العربیہ ‘‘ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کے حوالے سے مجوزہ تجویز میں حماس کے حالیہ ردعمل میں ترامیم شامل ہیں۔

العربیہ کے ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ غزہ کے حوالے سے مجوزہ تجویز میں امریکی ضمانتوں کے ساتھ ایک جزوی اور جامع حل شامل کیا گیا ہے۔ مصر نے حماس اور دھڑوں سے کہا ہے کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنے تک قاہرہ میں ہی رہیں۔ العربیہ ذرائع نے اشارہ کیا کہ غزہ کے حوالے سے مجوزہ تجویز میں قیدیوں کی رہائی اور بتدریج اسرائیلی انخلاء شامل ہے۔ غزہ کی پٹی میں بالواسطہ جنگ بندی کے مذاکرات میں ثالثوں نے حماس کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ العربیہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مصر اور قطر کے نمائندوں نے کئی فلسطینی دھڑوں کے رہنماؤں کی موجودگی میں تحریک کو نئے اقدام سے آگاہ کیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ دھڑے کے رہنماؤں نے حماس سے کہا کہ وہ آنے والے گھنٹوں میں تجویز کا جواب تیار کرے۔

مصر قطر کے ساتھ مل کر 60 روزہ جنگ بندی کے عارضی معاہدے پر واپس جانا چاہتا ہے۔ اس دوران 10 زندہ اسرائیلیوں اور متعدد لاشوں کو رہا کیا جائے گا۔ اس کے بعد غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے اگلے دن ایک معاہدے کو یقینی بناتے ہوئے مزید جامع معاہدے کے لیے فوری مذاکرات شروع ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں