اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو (اے ایف پی)

"ہم تمام یرغمالیوں کو ساتھ چاہتے ہیں".... نیتن یاہو نےغزہ کےحوالےسےحالیہ تجویز مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کے حوالے سے مصری اور قطری وساطت کاروں کی جانب سے پیش کردہ تازہ ترین جنگ بندی تجویز کو مسترد کر دیا۔

نیتن یاہو کے دفتر کے ذرائع نے آج منگل کو بتایا کہ وزیر اعظم نے "حماس کی جانب سے منظور شدہ تازہ ترین غزہ تجویز" پر اپنی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔ یہ بات اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتائی۔

حماس کا مثبت جواب

ذرائع نے بتایا کہ نیتن یاہو نے جزوی معاہدے کو رد کر دیا اور مطالبہ کیا کہ تمام یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا کیا جائے، ان کا کہنا ہے کہ "ہم کسی یرغمالی کو پیچھے نہیں چھوڑیں گے"۔

اس سے چند گھنٹے قبل قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا تھا کہ "مصری - قطری" تجویز پر حماس کا رد عمل انتہائی مثبت رہا اور یہ بڑی حد تک اسرائیل کی پچھلی منظوری کے مطابق ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ویٹکوف کی تجویز سے مطابقت

الانصاری نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تجویز امریکی خصوصی نمائندہ اسٹیو ویٹکوف کی پیش کردہ تجویز کے ساتھ بہت حد تک ہم آہنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا "حماس نے کل جو منظور کیا، وہ ویٹکوف کی تجویز کے ساتھ 98 فی صد مطابقت رکھتا ہے"۔

ایک مصری سرکاری ذریعے نے بتایا کہ ترمیم شدہ تجویز میں اسرائیلی عسکری کارروائیوں کو 60 دن کے لیے معطل کرنا اور ایک جامع معاہدے کے لیے راستہ قائم کرنا شامل ہے جو تقریباً دو سال سے جاری جنگ کا خاتمہ کرے گا۔

تجویز میں محصور علاقے میں انسانی امداد داخل کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کو دو مراحل میں یعنی ہر بار 10 کو رہا کیا جائے گا۔ ان کے علاوہ 18 لاشیں بھی واپس کی جائیں گی۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل غزہ شہر پر قبضے کی اپنی منصوبہ بندی پر کام جاری رکھے ہوئے ہے، حالانکہ وہ پورے علاقے کے تقریباً 75 فی صد پر قابض ہے۔ توقع ہے کہ آج اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر شہر پر قبضے کی حتمی منصوبہ بندی وزیر دفاع یسرائيل کاتز کو پیش کریں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں