حماس آمادہ ہو گئی .... غزہ کے حوالے سے نئی تجویز کی شقیں کیا ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصری سرکاری ذرائع نے کل پیر کے روز تصدیق کی کہ حماس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی ہے۔

حماس کے رہنما باسم نعیم نے "فیس بک" پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ تنظیم "وساطت کاروں کی نئی تجویز پر اپنا جواب دے چکی ہے اور اسے منظور کر لیا ہے"۔

حماس نے یہ بھی واضح کیا کہ دیگر فلسطینی دھڑوں نے بھی وساطت کاروں کو تجویز کی منظوری سے آگاہ کیا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے اس پر ابھی تک کوئی سرکاری رد عمل نہیں آیا، لیکن ایک اسرائیلی اہل کار نے تجویز کی وصولی کی تصدیق کی ہے، یہ بات "روئٹرز" نے بتائی۔

60 روز کی جنگ بندی

مصر اور قطر کی حالیہ تجویز کافی حد تک مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کی جانب سے مہینوں قبل پیش کی گئی تجویز کے مطابق ہے۔ ویٹکوف کی مذکورہ تجویز کو اسرائیل نے قبول کر لیا تھا۔ حالیہ تجویز کے تحت 60 دن کے لیے جنگ بندی ہو گی۔ اس دوران مرحلہ وار نصف زندہ اسرائیلی قیدی رہا کیے جائیں گے اور کچھ لاشیں بھی واپس کی جائیں گی۔ دیگر نصف قیدی بعد میں رہائی پائیں گے، جس کے بدلے سیکڑوں فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں سے آزاد کیے جائیں گے۔

تجویز میں غزہ میں محصور فلسطینی علاقے میں انسانی امداد داخل کرنے کی اجازت اور امداد کی تقسیم کے لیے اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کے اداروں کے ذریعے دوبارہ نظام قائم کرنے کی بات بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ "اسرائیلی افواج کی دوبارہ تعیناتی" کی بھی تجویز دی گئی ہے، تاہم اس کی نوعیت اور تفصیلات واضح نہیں ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب میدانی اشارے یہ بتاتے ہیں کہ اسرائیل غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے پر آگے بڑھ رہا ہے، حالانکہ وہ تقریباً 75 فی صد علاقے پر قابض ہے۔

مصری ذرائع نے بتایا کہ حماس کی منظور شدہ تجویز میں اسرائیلی عسکری کارروائیوں کو 60 دن کے لیے معطل کرنے اور ایک جامع معاہدے کے لیے راستہ قائم کرنے کی بات کی گئی ہے جو تقریباً دو سال سے جاری جنگ کا خاتمہ کرے گا۔

یہ پیش رفت اس ماہ اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر پر کنٹرول کے منصوبے کے اعلان کے بعد سامنے آئی۔ تاہم حکام نے کہا کہ مہم کے آغاز میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جس سے جنگ بندی کے لیے موقع کھلا رہتا ہے۔

اسی دوران، غزہ میں انسانی صورت حال مزید بگڑ گئی ہے اور خوراک کی قلت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں قحط اور غذائی قلت کے متاثرین کی مجموعی تعداد 266 ہو گئی ہے، جن میں 112 بچے شامل ہیں۔ یہ بات غزہ کی وزارت صحت نے آج منگل کو بتائی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں